انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 556

۵۵۶۔مشتبہ ہو جاتا ہے۔اور دوسری طرف یہ بھی ثابت ہے کہ آپ بعض افراد سے مراد صرف اپنا نفس ہی لیتے ہیں۔تو پھر اس بات میں کیاشک ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں جو یہ فرمایا ہے کہ بعض افراد امت نے نبی کا خطاب پایا۔اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ خود حضرت مسیح موعود نے نبی کا خطاب پایا ہے نہ کہ کسی اور نے۔اور اگر اس کے خلاف معنے کئے جائیں تو پھر حضرت مسیح موعود کے اقوال میں تناقض ہو گا۔اور خود مصنف کی تشریح سے اور کس کی تشریح معتبر ہو سکتی ہے۔شاید کوئی شخص یہ کہہ دے کہ امر ختم نبوت کس طرح مشتبہ ہو جاتا ہے۔جب ایک نبی ہو سکتا ہے تو بہت سے بھی ہو سکتے ہیں۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک بہت سے ہو سکتے ہیں لیکن ختم نبوت ان کے نبی ہونے سے مانع ہے اور اس امر کے سمجھنے کے لئے پہلے ختم نبوت کے معنوں پر غور کرنی چا ہیے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔’’مگرآ نحضرت ﷺ کویہ فخردیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسانبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو بلکہ ہر ایک کو جو شرف مکالمہ الہٰیہ دیا ہے وہ انہیں کے فیض اور انہیں کی وساطت سے ملتا ہے اور وہ امتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی۔‘‘ ( چشمہ و معرفت صفحہ ۹ و روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۸۰) اس حوالہ سے ختم نبوت کے دو معنے معلوم ہوئے:۔(۱) یہ کہ آنحضرت ﷺ پر سب کمالات نبوت ختم ہو گئے۔اور نبوت کا کوئی کمال نہیں جوآپؐ میں نہ پایا جاتا ہو بلکہ آپ سب کمالات کے جامع ہیں۔گویا خاتم النبّین کے معنے ایسے ہی ہیں جیسے کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص پر تو بہاد ری ختم ہوگئی۔جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر بہادر نہیں ہو سکا اور بہادری کی تمام جزئیات اس کے اندر جمع ہو گئیں ہیں۔پس خاتم النبیّن کے یہ معنے ہوئے کہ آپ جامع جمیع کمالات انبیاء ہیں۔(۲) دوسرے یہ معنے معلوم ہوئے کہ آپ کے بعد نہ کوئی جدید شریعت آسکتی ہے اور نہ کوئی بلاواسطہ نبی آسکتا ہے۔بلکہ جو نبی ہو گا۔امتی نبی کہلائے گا نہ کہ پر اور است فیض پانے والا مستقل نبی۔ان دونوں معنوں کے رو سے دیکھو تو دوسرے معنوں نے آنحضرت اﷺکے بعد دو قسم کی