انوارالعلوم (جلد 2) — Page 548
انوار العلوم جلد ۲ ۵۴۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا یہ مطلب ہے کہ احادیث میں چونکہ صرف مسیح کا نام نبی رکھا گیا ہے۔ اس لئے اس نام سے وہ مخصوص ہے ۔ ورنہ نبی تو سب محدث تھے ۔ لیکن یہ لوگ اس قدر خیال نہیں کرتے کہ حضرت مسیح موعود صرف یہی تو نہیں فرماتے کہ میں اس نام سے مخصوص ہوں۔ تاہم خیال کرلیں کہ آپ کی یہ خصوصیت ہے ۔ کہ آپ کو حدیث میں بھی نبی کر کے پکارا گیا ہے بلکہ آپ تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ شرط نبوت پہلے بزرگوں میں پائی نہیں جاتی۔ اور جب شرط نبوت نہیں پائی جاتی ۔ تو پھر وہ نبی کس طرح ہو سکتے ہیں ۔ غرض کہ حضرت مسیح موعود کے الفاظ صاف ہیں۔ آپ نہ صرف یہ کہ اپنے آپ کو نبی کے نام پانے کا ایک ہی مستحق قرار دیتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں کہ پہلے اولیاء میں وہ شرط ہی پائی نہیں جاتی۔ اس لئے وہ نبی ہو ہی نہیں سکتے۔ اس حوالہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت محدثوں والی جزوی نبوت نہ تھی۔ کیونکہ محدث تو اس امت میں پہلے بھی بہت سے گزر چکے ہیں۔ پھر اگر آپ کی نبوت محد ثیت والی جزوی نبوت ہوتی ۔ تو وہ محدث بھی حضرت مسیح موعود کے ساتھ نبوت میں شریک ہوتے لیکن باوجود اس کے کہ اس امت میں بہت سے محدث گزرے ہیں۔ جن میں جزوی نبوت تسلیم کی جاسکتی ہے۔ پھر بھی حضرت مسیح موعود ان کی نسبت فرماتے ہیں کہ ان میں شرط نبوت نہیں پائی جاتی۔ اور مجھ میں پائی جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود محد ثیت کی جزوی نبوت سے او پر کسی اور نبوت کے مدعی تھے۔ جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں ایک تقسیم کی ہے کہ ایک کیفیت نبی کی نبوت کی ہے اور ایک محدث کی نبوت کی۔ لیکن اگر کوئی غور سے دیکھے تو وہ تقسیم ان کی اپنی خود ساختہ ہے۔ نبی کی اصل تعریف کو انہوں نے محدثیت کی نبوت کے ماتحت رکھ کر حضرت صاحب کو محدثوں ۔ میں شامل کرنا چاہا ہے حالانکہ مسیح موعود سب محدثوں کو اس شرط کے پورا کرنے سے قاصر ظاہر فرما کر اپنے آپ کو اس امت کے باقی سب افراد سے علیحدہ کرتے ہیں۔ مولوی صاحب نے ایسی ہی بات کی ہے جیسے کوئی شخص مثلاً ڈاکٹر کی یہ تعریف کرے کہ ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جو دلایت کا پاس یافتہ ہو۔ اور اس تعریف کی بناء پر جس قدر اسٹنٹ سرجن ہیں ان کے ڈاکٹر ہونے سے انکار کردے۔ مولوی صاحب نے بھی یہی کیا ہے۔ نبوت کی بعض خصوصیتوں کو اصل نبوت قرار دے کر اور ان نبیوں کے خصوصی نام لکھ کر کہہ دیا کہ دیکھو یہ نبیوں والی نبوت ہوتی ہے اور یہ حضرت مرزا صاحب میں پائی نہیں جاتی۔ حالانکہ وہ نبوت ہے ہی نہیں وہ تو بعض خصوصیتیں ہیں۔ نبوت کی جو تعریف تھی