انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 547

انوار العلوم جلد ۲ ۵۴۷ حقيقة النبوة ( حصہ اول) مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۴۰۷-۲۰۶ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اس امت میں اپنے سے پہلے کسی اور شخص کے نبی ہونے سے قطعی انکار کیا ہے۔ پس جب مسیح موعود کہتا ہے ۔ کہ امت محمدیہ میں اس وقت تک صرف میں ہی ایک شخص ہوں جو نبی کہلانے کا مستحق ہوں تو اب بتاؤ کہ جو لوگ ہر بزرگ اور ولی کو نبی بنا رہے ہیں اور اس طرح مسیح موعود کی نبوت کو باطل کرنا چاہتے ہیں ان کا کیا حال ہو گا۔ اور وہ اللہ تعالی کو کیا جواب دیں گے حضرت مسیح موعود ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحه ۲۸ پر فرماتے ہیں کہ :۔ شید ” جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے۔ اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھراتا ہے اور ہر ایک متنازعہ کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا۔ اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں ۔ " (روحانی خزائن جلد کے اصفحہ ۶۴) اور پھر کتاب نزول المسیح میں فرماتے ہیں :- اور وہ جو خدا کے نامور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا۔ اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا۔ اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔ سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہو تا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ ۔ زنزول این مدار وحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۳) پس ہر ایک مؤمن پر فرض ہے کہ مسیح موعود کی تحریروں کی قدر کرے۔ اور ان کو اپنے خیالات کے مطابق بنانے کی بجائے اپنے خیالات ان کے مطابق بنائے۔ اور مسیح موعود کے فیصلہ کو زد نہ کرے اور نہ اس کے الفاظ کو الٹ پھیر کر اپنے مطلب سے پھیرے کہ یہ ایک خطر ناک گناہ ہے۔