انوارالعلوم (جلد 2) — Page 546
انوار العلوم جلد ۲ ۵۳۶ حقيقة النبوة ( حصہ اول) کی شرط ہے پس جبکہ مسیح موعود نے نبی ورسول میں فرق نہیں کیا۔ تو کسی احمدی کا حق نہیں کہ فرق کرے۔ اور اگر کرنے بھی تو پھر بھی اسے کچھ فائدہ نہیں۔ کیونکہ جن لوگوں نے ان دونوں ناموں میں فرق کیا بھی ہے وہ رسالت کے درجہ کو نبوت کے درجہ سے بلند قرار دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہر نبی رسول نہیں۔ لیکن ہر رسول نبی بھی ہے۔ پس اگر رسالت سے رسالت ہی مراد لو تب بھی رسالت کے ثابت ہوتے ہی نبوت خود ثابت ہو جائے گی۔ اس سوال کا جواب کہ کیا مسیح موعود کے سوا کوئی اور نبی بھی اس امت میں گزرا ہے یا نہیں؟ ایک یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ اس امت میں مسیح موعود کے سوا کوئی اور بھی نبی گزرا ہے یا نہیں تو اس کا جواب مختصر تو یہ ہے کہ نہیں۔ اور سب سے پہلے اس بات کے لئے بطور دلیل خود آنحضرت ا کی احادیث کو پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ آنحضرت ا نے صرف ایک شخص کا نام نبی رکھا ہے ۔ اور ہمارا حق نہیں کہ آپ کے حکم کے سوا اور کسی کا نام نبی رکھ دیں پھر یہی نہیں کہ آنحضرت ا نے صرف مسیح موعود کا نام نبی رکھا ہے بلکہ یہ بھی فرما دیا ہے کہ لَيْسَ بینی وبَيْنَهُ نَبی یعنی اس کے اور میرے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔ پس خاتم الانبیاء کی گواہی ۔ کے باوجود ہم کسی کو نبی کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ نبی تو وہ شخص ہو سکتا ہے جس کی صداقت پر آنحضرت الی کی مہر ہو۔ اور آپ مسیح سے پہلے اس امت ۔ نا امت کے کسی اور آدمی کی نبوت پر مہر صداقت لگانے سے انکار فرماتے ہیں۔ پس ہم بھی اس بات پر مجبور ہیں کہ مسیح موعود سے پہلے اس امت میں کسی اور امتی نبی کے وجود سے انکار کر دیں۔ دوسری شہادت اس بات کی تائید میں کہ حضرت مسیح موعود سے پہلے کوئی اور ولی یا بزرگ یا محدث نبی نہیں ہوا۔ گو بوجہ محد ثیت جزوی نبوت ان لوگوں میں پائی جاتی ہو ۔ خود حضرت مسیح وعود کی اپنی تحریریں ہیں۔ اور مسیح موع موعود وہ شخص ہے جس کو رسول الله الا حکم و م د عدل بیان فرماتے ہیں۔ پس اس کا فیصلہ رد کرنا کسی مومن کا کام نہیں ہو سکتا۔ آپ فرماتے ہیں :- غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد "