انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 545

انوار العلوم جلد ۲ رسول کی خبر دی گئی تھی۔ ۵۴۵ حقيقة النبوة (حصہ اول) (۲۰) کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ا چونکہ خاتم النبین ہیں۔ اس لئے خواہ کسی کو الہامات میں کتنی دفعہ ہی نبی کے نام سے پکارا جائے تب بھی وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نبوت کا سلسلہ تو بند ہو گیا۔ اب اگر نام رکھ دیا جائے تو رکھ دیا جائے اور محدث بوجہ الہام پانے کے جزوی نبی کہلائے تو کہلائے۔ مگر نبی فی الواقع نہیں ہو سکتا۔ لیکن حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :- " میں ولایت کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت ا نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے ۔ اور وہ خاتم الانبیاء ہیں۔ اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا۔ اور میرے عہد پر ہو گا۔ " خطبه الهامید مت ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۶۹-۷۰) اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود خاتم الاولیاء ہونے کا دعوی فرماتے ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک خاتم کے وہی معنی ہیں جن کے ذریعہ سے آئندہ نبیوں کا سلسلہ روکا جاتا ہے۔ تو خاتم الاولیاء کے یہ معنی کرنے پڑیں گے کہ اب دنیا میں کوئی ولی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ کبھی اگر خدا تعالی کسی کا نام ولی رکھ بھی دے۔ تو اس سے یہ مطلب نہ ہو گا۔ کہ وہ ولی ہو گیا ہے ۔ بلکہ اس کا مطلب صرف اس قدر ہو گا کہ اس کا نام ولی رکھ دیا گیا ہے۔ ورنہ وہ ولی نہیں۔ لیکن اگر یہ معنی نہیں بلکہ یہ ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے بعد کوئی شخص دلی نہیں بن سکتا جب تک آپ کی فرمانبرداری کا جوڑا اپنی گردن پر نہ رکھے۔ تو خاتم النبین کے معنے بھی یہی ہیں کہ کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔ جب تک آنحضرت ا کی غلامی نہ اختیار کرے۔ ورنہ نبوت کا دروازہ ﷺ مسدود نہیں۔ اور جبکہ باب نبوت کھلا ہوا ہے تو مسیح موعود بھی ضرو ر نبی ہے۔ گو نبوت کے دلائل تو بہت سے ہیں ۔ لیکن اس جگہ اسی قدر پر کفایت کی جاتی ہے۔ میں خیال کرتا ہوں۔ کہ اگر سب دلائل جمع کئے جائیں تو ایک سو سے زائد دلائل مسیح موعود کی نبوت پر مل سکتے ہیں جنہیں کسی اور موقعہ پر پیش بھی کیا جا سکتا ہے مگر فی الحال اس قدر کافی ہیں۔ اور حق پسند انسان کی ہدایت کے لئے اس سے زیادہ کی حاجت نہیں۔ دلائل نبوت میں میں نے نبی اور رسول دونوں کے حوالے نقل کئے ہیں لیکن ممکن ہے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِہ والی آیت اور بعض اور دلائل میں رسول کا لفظ ہے نہ نبی کا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے خود اس آیت کا مطلب یہ نکالا ہے کہ یہ نبوت