انوارالعلوم (جلد 2) — Page 543
۵۴۳ ﷺکے زمانہ سے پہلے تو محدث بھی براہ راست ہوا کرتے تھے۔لیکن آپ کی امت میں محدث آپ کے واسطہ سے ہونے لگے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ یہ بات تو آپ نے اپنے پاس سے لگالی ہے۔حضرت مسیح موعود نے تو صرف انبیاء کی نسبت لکھا ہے کہ ان کو براہ راست نبوت ملا کرتی تھی۔محدثوں کی نسبت کہیں نہیں لکھا کہ ان کو بھی محد ثیت براہ راست ملا کرتی تھی۔پس بلا وجہ نئی شرط لگانے کی کوئی وجہ نہیں۔یا تو اس دعوے کا ثبوت قرآن کریم سے دینا چاہئے یا حدیث سے یا پھر مسیح موعود کے کلام سے لیکن تینوں جگہ اس ثبوت کے مہیا کرنے میں ناکامی اور نامرادی ہوگی پس اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ محدث کے علاوہ اس سے بڑھ کر ایک اور نبوت ہے جو پہلے نبیوں کے فیض سے نہیں مل سکتی تھی۔صرف نبی کریم ﷺکے فیض سے مل سکتی ہے حالانکہ محد ثیت پہلی امتوں کو بھی مل جاتی تھی۔اور اب بھی مل جاتی ہے۔لیکن وہ نبوت پہلی امتوں کو نہیں ملتی تھی اب مل جاتی ہے۔اور محد ثبت چونکہ جزوی نبوت کا نام ہے اس لئے وہ نبوت سواۓ نبیوں والی نبوت کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔اور جبکہ نبوت کا دروازہ کھلا پڑا، تو مسیح موعود سے رسول الله ﷺنے بھی نبی کہا ہے اور خدا تعالی ٰنے بھی تو اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں رہا۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود اس نبوت کے لئے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے مل سکتی ہے۔نہ کہ کسی اور نبی کی اتباع سے یہ شرط لگاتے ہیں کہ اس کے لئے امتی ہونا ضروری ہے۔پس اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ پہلے محدث بغیر فیضان انبیائے سابقین کے محدث بن جاتے تھے تو یہ بھی ماننا ہو گا کہ وہ امتی نہ ہوتے تھے۔کیونکہ امتی کے یہ معنے ہیں کہ وہ جو کچھ پائے اپنے نبی کے فیضان سے پائے اور جس شخص نے نبوت کی طرح محد ثیت بلا اتباع کا پرانے نبی کے حاصل کی۔وہ امتی نہیں کہلا سکتا۔اور نبی تو وہ ہے ہی نہیں۔کیونکہ محدث در حقیقت نبی نہیں ہوتا۔بلکہ بعض مشابہتوں کی وجہ سے اسے جزوی نبی کہہ سکتے ہیں۔(دیکھو اشتہار۳ فروری ۱۸۹۲ء) پس اس صورت میں مانناپڑے گا۔کہ نبی اور امتی کے سوا کوئی اور گروہ بھی ہوتا ہے جو نہ نبی ہو تا ہے نہ امتی۔کیونکہ محدث اگر براہ راست محدث بنے تونہ نبی کہلا سکتاہے نہ امتی لیکن اس گروہ کا ہونا محال ہے۔ہر ایک گروہ جو اللہ تعالی ٰسے تعلق رکھتا ہے وہ دو حالت سے خالی نہیں یانبی ہے یا امتی: یہ نہیں ہو سکتا کہ نہ نبی ہو اور نہ امتی ہو۔گو یہ ہو سکتا ہے کہ نبی بھی ہو اور امتی بھی۔کیونکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہے تو نبی۔لیکن اس نے دوسرے نبی کے واسطے سے نبوت پائی