انوارالعلوم (جلد 2) — Page 535
۵۳۵۔جواب درست ہو گا۔اسی طرح جب ایک احمدی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا تمہارے پیر نے دعویٰ نبوت کیا ہے تو اگر حضرت مسیح موعود واقع میں نبی نہ ہوتے بلکہ صرف نام پایا ہو تا تو اس احمدی کا انکار بالکل درست اور راست تھا۔لیکن حضرت مسیح موعود اس پر ایک اشتہار شائع کرتے ہیں کہ یہ اس کی غلطی تھی جس سے صاف ثابت ہے کہ آپ کو دعوائے نبوت تھا۔اور آپ نبی تھے۔بارھویں دلیل۔حضرت مسیح موعود حقيقۃ الوحی کے صفحہ ۱۵۴ پر فرماتے ہیں۔’’ بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرتﷺ کے افاضئہ رو حانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا " اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کو صرف نام نبی نہیں دیا گیا تھا بلکہ آپ واقع میں نبی تھے کیونکہ آپ فرماتے ہیں \" مجھے نبوت کے ؎۵۹ مقام تک پہنچایا‘‘ اگر آپ نبی نہ ہوتے تو یہ نہ فرماتے کہ نبوت کے مقام تک مجھے پہنچایا۔بلکہ یہ فرماتے کہ گو فیضان نبوت تو اب بند ہو چکا تھا اور میں نبی نہ ہو سکتا تھا لیکن اللہ تعالی ٰنے مجھے نبی نام دے دیا۔لیکن آپ اس کی بجائے یہ فرماتے ہیں کہ مقام نبوت تک پہنچایا۔بعض لوگ جو حضرت صاحب کے نبی ہونے کو ایسا ہی قرار دیتے ہیں جیسے آدمی کو شیر کہہ دیناوہ اس کا جواب دیں کہ جس آدمی کو شیر کہتے ہیں کیا اس میں شیر کی سب کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اگر نہیں تو جبکہ حضرت مسیح موعود صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ نبوت کے مقام تک مجھے پہنچایا۔اس کا یہ مطلب کیو نکر لیا جاسکتاہے کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ نام رکھ دیا گیا تھا۔نبوت کا منصب بھی جب آپ کو دیا گیا۔اور نبی نام بھی ہو گیا۔تو آپ کے نبی ہونے میں کیا کسر باقی رہ گئی۔تیرھویں دلیل مذکورہ بالا حوالہ سے ہی حضرت مسیح موعود کی نبوت کا ایک اور بھی ثبوت ملتا ہے اور وہ یہ کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کا فیضان ثابت کرنے کے لئے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا ہے، اب اگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ کا نام نبی رکھ دیا گیا ہے تو اس سے افاضہ کا کیا ثبوت ملا آنحضرت ﷺ کا افاضہ تو تب ثابت ہوتا ہے جب نبوت ملے نہ کہ کسی کا نام نبی رکھ دینے سے آپ کا فیضان ثابت ہو جا تا ہے۔ایک استاد کا فیضان یہ ہو تاہے کہ وہ اپنے شاگرد کو لائق بنائے نہ یہ کہ اس کے شاگرد کا نام لائق رکھ دیا جائے کالجوں کے پروفیسروں کی لیاقت اس طرح ثابت ہؤا کرتی ہے کہ ان کے شاگر دبی اے یا ایم اے میں واقعی طور پر کامیاب ہو جائیں یا اس طرح ثابت ہوتی ہے کہ ان کے انٹرنس پاس طالب علم کا نام بی اے یا ایم اے رکھ دیا جائے اس قسم کا افاضہ تو بچوں میں ہوتا ہے کہ ایک بادشاہ بن جاتا ہے اور کسی کو پھانسی ؎ حاشیہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۲۲۔