انوارالعلوم (جلد 2) — Page 525
انوار العلوم جلد ۲ ۵۲۵ حقيقة النبوة ( حصہ اول) انہوں نے کونسی تکذیب کی تھی سو یاد رہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے ۔ “ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۷) (11) اور اس امتحان کے بعد اگر فریق مخالف کا غلبہ رہا۔ اور میرا غلبہ نہ ہوا تو میں کاذب ٹھہروں گا۔ ورنہ قوم پر لازم ہو گا کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر آئندہ طریق تکذیب اور انکار کو چھوڑ دیں۔ اور خدا کے مرسل کا مقابلہ کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کریں ۔ " (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۱) (۱۲) ” نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق " نہیں" (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۷۰۴۰۶ ) - (۱۳) پس خدا تعالٰی نے اپنی سنت کے مطابق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا۔ تب وہ وقت آگیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزادی جادے ۔ " تمه حقیقت الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۷) (۱۴) ” میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے۔ اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے ۔ " اتمہ حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۳) (۱۵) وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً (بنی اسرائیل :(۱۶) پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اور وہی مسیح موعود ہے ۔ “ تمه حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۰) (۱۶) وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمع : (٢)۔ یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے ۔ " اتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد (۵۰۲) (۱۷) ” صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا ۔ " (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۴) (۱۸) ” جبکہ میں نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔ اور آنے والا مسیح میں ہوں تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی نہیں۔ نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم ۔ جو کچھ ہے پہلا ہے۔" (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۱۵۹۲۲) (۱۹) ” میں مسیح موعود ہوں۔ اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے "