انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 507

MI انوار العلوم جلد ۲ ۵۰۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) تعالٰی کے کسی نبی کا انکار نہ کر بیٹھیں۔ پس آپ نے بتا دیا کہ خاتم النبین تو رسول الله الل کو بے شک کہو کیونکہ آپ کے فیض اور آپ کی مہر کے بغیر کوئی نبی اب نہیں آسکتا۔ لیکن لانبی بعدی کی حدیث پر زور نہ دیا کرو۔ کیونکہ اس کے وہ معنے نہیں جو تم لوگ سمجھے ہو ۔ لیکن حضرت عائشہ نے جس بات کا خوف کیا تھا وہی در پیش آئی۔ اور بعض لوگ رسول الله الا کے ایک قول کو تو حجت پکڑتے ہیں۔ اور دوسرے کو رد کرتے ہیں۔ مگر مؤمن کی شان سے یہ امر بعید ہے اور اسے چاہئے کہ آپ کے سب اقوال کی عزت کرے ۔ لا نبی بعدی کے قول کو بھی نہ چھوڑے ۔ اور مسیح کو نبی اللہ کے نام سے جو آپ نے یاد فرمایا ہے۔ اس کی بھی عزت کرے اور ان دونوں اقوال میں تطبیق دئے۔ اور وہ اسی طرح ہو سکتی ہے ۔ کہ تشریعی نبوت اور نبوت مستقلہ کا دروازہ مسدود سمجھے اور اس نبوت کو تا قیامت جاری خیال کرے جو آپ کے فیضان سے ملتی ہے۔ شاید اس جگہ کوئی کہہ دے کہ ہم بھی مسیح موعود کو مجازی نبی تو مانتے ہیں۔ پس ہم اس حدیث کے منکر نہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ماننا نہ ماننے کے برابر ہے۔ کیونکہ تم مجازی نبی کے معنی غیر نبی کے کرتے ہو۔ اور جو غیر نبی ہے وہ بہر حال غیر نبی ہی ہے نبی نہیں ہو سکتا۔ پس یہ ماننا ایک لفظی اقرار سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتا۔ اور ایسے نبی ماننے سے نہ مانا بہتر کہ لوگوں کو دھوکا نہ لگے ۔ ماننا یہی ہے کہ جسے رسول الله اللا نبی فرماتے ہیں۔ اس کی نبوت کا اقرار کیا جائے خواہ اس میں ساری دنیا ہی کیوں ناراض نہ ہو جائے سب دنیا کی تکذیب کرنی بہتر ہے۔ اس امر سے کہ رسول اللہ اس کی تکذیب کی جائے۔ بعض لوگ مسلم کی حدیث سن کر کہہ دیتے ہیں۔ کہ اس حدیث میں تو سب استعارے ہی استعارے بھرے پڑے ہیں پس اگر اس حدیث میں مسیح موعود کے لئے نبی کا لفظ آگیا ہے تو اسے بھی استعارہ ہی قرار دینا چاہئے۔ لیکن ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ استعارہ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اگر ایک عبارت میں کچھ استعارے ہوں تو اسکے سب الفاظ کو استعارہ ۵۸ نہیں قرار دے سکتے۔ استعارہ کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہئے ان الفاظ میں جو علامت کے طور پر ہوں استعارہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے آزمائش مراد ہوتی ہے لیکن ایک شخص کا عہدہ بیان کرنے میں استعارہ کا کیا تعلق ہے۔ اللہ تعالی پیار کے طور پر نبی کا نام کسی کو دے دے تو مانا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے لیکن رسول اللہ اللہ تو نبی کا عہدہ نہیں بخشتے۔ کہ آپ نے اظہار محبت کے لئے مسیح موعود کا نام نبی رکھ دیا۔ پس گو اس حدیث میں کثرت سے استعارہ استعمال ہوا ہو مگر مسیح موعود کے عہدہ کو استعارہ نہیں کہہ