انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 500

۵۰۰ گے کہ حضرت مسیح موعود نے جہاں مجازی نبی اپنے آپ کو فرمایا ہے اس سے صرف اس حقیقت کا انکار مراد ہے۔جو عوام الناس میں نبی کے متعلق سمجھی گئی ہے یا اس حقیقت کا جو عوام الناس کو سمجھانے کے لئے حضرت مسیح موعود نے بطور اصطلاح قرار دی ہے۔ورنہ یہ مراد نہیں کہ آپ شریعت کی اصطلاح کے مطابق نبی نہیں۔اور یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کونبی نہیں سمجھتے تھے اور نہ یہ کہ آپ لغت کے معنوں کے روسے نبی نہ تھے۔کیونکہ قرآن کریم کو جب ہم دیکھتے ہیں تو اس میں نبی کی جو حقیقت لکھی ہے۔وہ حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے۔پس اس حقیقت کے لحاظ سے بھی حضرت صاحب کو مجازی نبی نہیں کہہ سکتے۔اور لغت نے جو حقیقت نبوت بیان کی ہے۔وہ بھی حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہے۔لغت کے لحاظ سے بھی آپ مجازی نبی نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود نے خود جو حقیقت نبوت کی اپنے مذہب کے طور پر بتائی ہے۔وہ بھی آپ میں پائی جاتی ہے۔کیونکہ آپ نے لکھا ہے کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت نبی اسے کہتا ہوں جو کثرت امور غیبید پر اطلاع پائے۔اسی طرح لکھا ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔وہ صرف یہ ہیں کہ کثرت سے انسان امور غیبیہ پر مطلع کیا جائے۔اسی طرح لکھا ہے کہ نبی کے لئے شرط نہیں کہ کوئی جدید شریعت لائے یا یہ کہ کسی پہلے نبی کا متبع نہ ہو۔پس حضرت مسیح موعو د نبی جس شخص کا نام رکھتے ہیں اور آپ کا یہ مذہب خدا کے حکم کے ماتحت ہے اس کے لحاظ سے بھی آپ مجازی نبی نہیں کہلا سکتے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ عوام الناس کی نبی کی تعریف کے ماتحت آپ مجازی نبی تھے۔اور اسی طرح اس حقیقت کے مقابلہ میں جو بطور اصطلاح آپ نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے مقرر کی ہے۔آپ مجازی نبی تھے۔لیکن کوئی جدید شریعت نہ لائے تھے۔پس میرامذہب یہی ہے کہ اگر حقیقی نبی کے یہ معنی کئے جائیں کہ جو شریعت لائے تو حضرت مسیح موعود ایسے نبی نہ تھے۔اور اگر یہ معنی کئے جائیں کہ جو شریعت اسلام کے روسے نبی ہو۔تو ان معنوں کے لحاظ سے آپ حقیقی نبی تھے۔غیرنبی نہ تھے۔کیونکہ قرآن کریم نے نبی کے لئے یہ شرط کہیں بھی مقرر نہیں کی کہ وہ شریعت جديده لائے۔یا یہ کہ پہلے کسی نبی کامتبع نہ ہو یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ براہ راست نبوت پائے۔