انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 499

انوار العلوم جلد ۲ ۴۹۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) کو ایک رنگ میں تشریعی نبیوں کے مشابہ کر دیا ۔ پس مجازی نبی کے یہ معنی نہیں کہ حضرت مسیح موعود نبی نہیں بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ نبی کی حقیقت یہ تسلیم کر کے کہ اس کے لئے شریعت لانا ضروری ہے حضرت مسیح موعود میں یہ حقیقت تو نہیں پائی جاتی ۔ لیکن ایسے نبیوں سے مشابہت ہے۔ انہ ہوئے پس مجازی نبی کے یہ معنی نہیں کہ حضرت مسیح موعود کا درجہ کم ہو گیا۔ اور آپ نبی ثابت نہ : کیونکہ نبی کی حقیقت شریعت اسلام کے رو سے شریعت کا لانا نہیں ہے پس شریعت اسلام کے معنوں کے رو سے تو نبی کا لفظ آ۔ آپ پر مجازا نہیں استعمال ہوتا۔ بلکہ حقیقتاً ہوتا ہے۔ ہاں اگر نبی کی حقیقت یہ قرار دی جائے کہ اس کے لئے شریعت لانا ضروری ہے۔ تو اس حقیقت کے رو سے جب حضرت مسیح موعود پر مجاز انبی کا لفظ استعمال کیا جائے گا۔ تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود شریعت لانے والے نبی تو نہیں۔ لیکن ان سے ایک مشابہت رکھتے ہیں کہ بعض احکام دوبارہ آپ پر بھی نازل کئے گئے ہیں اور اس حقیقت کے رو سے بے شک مولوی صاحب کی شیر والی مثال درست رہتی ہے۔ یعنی جس طرح کسی آدمی کو شیر کہنے سے وہ شیر نہیں ہو جاتا۔ اسی طرح نبی کی حقیقت شریعت لانا فرض کر کے حضرت مسیح موعود تشریعی نبی نہیں ہو جاتے بلکہ اس حقیقت کو فرض کر کے اگر آپ کے متعلق نبی کا لفظ استعمال کیا جائے۔ تو اس کے صرف یہ معنی ہوں گے کہ آپ کو شریعت لانے والے نبیوں سے ایک مشابہت ہے۔ ورنہ یہ ہرگز نہیں کہ آپ کوئی جدید شریعت لائے تھے ۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ کیونکہ قرآن کریم کے بعد کوئی اور شریعت نہیں۔ اور آنحضرت ا کے بعد اس حقیقت والا کوئی نہیں اور حضرت مسیح موعود محض اتباع نبی کریم اور عمل بالقرآن سے نبوت کے درجہ پر پہنچے۔ اور آپ کی سب عمر خدمت خاتم النبین اور خدمت قرآن میں گزر گئی۔ جس طرح حضرت موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو ان کی عمر بھی آنحضرت کی اتباع میں گذر جاتی اور وہ بھی جو کچھ پاتے آپ کے فیض سے پاتے پس مجازی نبی کے یہ معنی نہیں کہ حضرت مسیح موعود نبی نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق آپ نبی ہیں۔ کے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ شریعت کوئی نہیں لائے ۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے محض بلندی درجہ اظہار کے لئے بعض احکام قرآن آپ پر دوبارہ نازل فرمائے ۔ تا اپنے متبوع اور مطاع سید الکونین حضرت محمد مصطفیٰ ال سے کامل مشابہت ہو جائے ۔ اور یہ لفظ آپ کی عزت کو بڑھاتا ہے نہ کہ گھٹاتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست آئندہ کے لئے اس امر کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں