انوارالعلوم (جلد 2) — Page 498
۴۹۸ نبیوں میں پائی جاتی ہیں۔وہ آپ میں پائی جاتی ہیں۔اور جو باتیں نبیوں کے سوا اور کسی میں نہیں پائی جاتیں وہ بھی آپ میں پائی جاتی ہیں۔پس جس طرح حقیقت کے لئے قرینہ کے ہوتے ہوئے آگ کو مجازی آگ اور شیر کو مجازی شیر کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کی نبوت کے شریعت اسلام کے مطابق نبوت ہونے پر قرائن کے موجود ہوتے ہوئے آپ کی نسبت یہ کہنا کہ شریعت اسلام کے رو سے آپ مجازی نبی تھے کسی طرح جائز نہیں۔کیونکہ نبی کے لئے جو شرائط و انعامات قرآن کریم میں موجود ہیں۔سب آپ میں پائے جاتے ہیں۔پس شریعت اسلام کی اصطلاح کے مطابق جن لوگوں کو نبی کہتے ہیں۔اس کے لحاظ سے تو آپ حقیقی معنوں میں ہی نبی ہیں۔لیکن آپ نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے جو نبی کی ایک حقیقت قرار دی تھی۔اس کے لحاظ سے بے شک آپ کی نبوت مجازاً نبوت تھی۔یعنی اس حقیقت کو اگر نبی کی شرط تسلیم کر لیا جائے۔یعنی یہ کہہ دیا جائے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو شریعت جد ید ہ لائے۔تو اس لحاظ سے آپ نبی نہ تھے۔اور جب اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ پر لفظ نبی مجاز۱ً استعمال کیا جائے گا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ میں شریعت لانے کی خصوصیت نہیں۔گو ان نبیوں سے جو شریعت لائے۔ایک مشابہت ہے۔اور وہ مشابہت حضرت مسیح موعودؑ نے خودہی اربعین میں بیان فرما دیا ہے کہ مجھ پر بھی قرآن کریم کی بعض ایسی آیات دوباره اتری ہیں جو احکام سے تعلق رکھتی ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں: \"شریعت کی چیز ہے۔جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امراور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔کیونکہ میری وحی میں امربھی ہیں اور نہی بھی۔مثلاً یہ الہام قل لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے“ (اربعین نبر۴صفحہ۹۴ وروحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ (۴۳۵-۴۳۶) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺکے بعد کوی جدید شریعت نہیں لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ چند احکام و نواہی حضرت مسیح موعود ؑپر بھی دوبارہ نازل ہوئے ہیں۔لیکن قرآن کریم کے ہی الفاظ میں۔نہ نئی طرز پر۔جس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں اول یہ کہ اب کوئی شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا۔پس حضرت مسیح موعود شریعت لانے والے نبی نہیں بن سکتے۔دوسری یہ بات کہ آپ پر بعض احکام قرآن دوبارہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے۔جس کے یہ معنی ہوۓ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ