انوارالعلوم (جلد 2) — Page 496
انوار العلوم جلد ۲ ۴۹۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) ہوا ہے۔ اور ایسے آدمی سے خطرہ ہے کہ کل کو بعض آدمیوں کی نسبت وہ یہ نہ کہہ دے کہ وہ مجازی آدمی ہیں کیونکہ گو اس کے سامنے کھول کھول کر بیان کر دیا جائے کہ ان لوگوں میں وہ خصوصیتیں پائی جاتی ہیں جو آدمیوں کے سوا کسی اور جانور میں نہیں پائی جاتیں۔ مگر وہ کہہ سکتا ہے کہ خواہ ان میں وہ خصوصیات پائی جائیں جو غیر آدمی میں نہیں پائی جاتیں مگر ہیں یہ مجازی آدمی۔ میرے خیال میں تو ایسے خیالات کا آدمی رفتہ رفتہ سو فسطائی ہو جائے گا۔ یعنی جن کے خیال میں ہر ایک شئے وہم ہی وہم ہے۔ حقیقت کچھ ہے ہی نہیں۔ مگر میں امید کرتا ہوں کہ جب مسیح موعود کی نبوت کے منکر حقیقت و مجاز کی پوری کیفیت معلوم کریں گے ۔ تو اپنے خیالات میں اصلاح کرلیں گے۔ اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم مجاز کے جو معنی سمجھتے ہیں۔ وہ مجاز کی حقیقت سے بالکل بعید ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود کی کتب میں اپنی نسبت جہاں جہاں مجازی نبی یا مجازی نبوت کا ذکر آیا ہے اس کا اسی قدر مطلب ہے کہ آپ کوئی جدید شریعت نہیں لائے اور نہ براہ راست نبی بنے۔ اور یہ ہرگز مطلب نہیں کہ شریعت اسلام کے رو سے آ۔ اسلام کے رو سے آپ نبی نہ تھے۔ اور صرف آپ کا نام آپ کا نام کسی معمولی مشابہت کی وجہ سے نبی رکھ دیا گیا تھا۔ مجازی نبی کے معنی سمجھنے کے لئے ایک اور آسان طریق بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ جب کسی لفظ کو مجاز قرار دیا جائے ۔ تو اس کی یہ شرط ہوتی ہے کہ اس کے لئے کوئی قرینہ ہو ۔ کیونکہ اگر بغیر قرینہ کے کوئی لفظ مجاز استعمال کیا جائے تو کوئی شخص معنی سمجھ ہی نہیں سکتا۔ مثلاً مولوی صاحب نے جو مثال شیر کی دی ہے اس کو لے لیں۔ اگر کسی آدمی کو شیر کہیں گے تو ضرور ہے کہ کوئی قرینہ ایسا موجود ہو جس سے لوگوں کو پتہ لگ جائے کہ اس جگہ شیر کا لفظ اپنے اصل معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ مثلاً یہ کہ کوئی آدمی سامنے کھڑا ہے اور ہم اسے شیر کہتے ہیں تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت لفظ شیر سے مراد وہ حقیقت نہیں ۔ جس کے لئے شیر کا لفظ لغت نے وضع کیا تھا۔ یا اگر وہ شخص غائب ہے تو یوں کہہ دیں کہ فلاں شخص تو شیر ہے۔ بڑا بہادر ہے۔ اب بھی سننے والا سمجھ سکتا ہے کہ شیر سے مراد کوئی آدمی ہے۔ کیونکہ ایک تو آدمی کا نام لے دیا گیا۔ دوسرے یہ بھی ظاہر کر دیا گیا ہے کہ شیر کا لفظ بہادری کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے۔ پس جب ایک لفظ جو دراصل اور حقیقت کے لئے وضع کیا گیا ہو۔ کسی اور معنی پر بولا جائے۔ اور اس کا استعمال مجاز ا ہو ۔ تو اس کے لئے ہمیشہ قرینہ کی شرط ہے جس سے پتہ لگ جائے کہ بولنے والے کی مراد اصل شئے نہیں ۔ بلکہ اس کے مشابہ کوئی اور شئے ہے لیکن اگر بلا قرینہ کے کوئی لفظ بولا جائے۔ تو اس کے معنی ہمیشہ وہی ہوں گے جس کے