انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 495

انوار العلوم جلد ۲ ۴۹۵ حقيقة النبوة (حصہ اول) کہتے ہیں۔ جب اس میں وہ حقیقت نہ پائی جائے۔ جو اصل کے سوا کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ اور جب وہ حقیقت پائی جائے جو کسی اور میں نہیں پائی جاتی تو اسے مجازی نہیں کہہ سکتے۔ اس اصل کو سمجھ کر جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس میں نبیوں اور رسولوں کی ایک ایسی خصوصیت بیان ہے جس کی نسبت وہ فرماتا ہے کہ یہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ پس جس میں وہ خصوصیت پائی جائے گی اسے ہم مجازی نبی نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ شریعت اسلام کے رو سے حقیقی نبی ہو گا خواہ کسی اور اصطلاح کے رو سے مجازی نبی ہو وہ خصوصیت اظہار علی الغیب ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے فلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولِ یعنی سوائے رسولوں کے میں اظہار علی الغیب کا مرتبہ کسی کو نہیں دیتا۔ پس یہ خصوصیت جس میں پائی جائے گی وہ شریعت اسلام کے رو سے مجازی نبی کبھی نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ اسلام کی اصطلاح میں وہ حقیقی نبی ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں رسولوں کے سوا کسی کو غیب پر غلبہ دیتا ہی نہیں۔ اور حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے غیب پر کثرت سے اطلاع دی جاتی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اسلام کی اصطلاح کے رو سے حضرت مسیح موعود ہرگز مجازی نبی نہیں۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے میں ایک اور مثال دیتا ہوں۔ کیونکہ مثالوں سے مطلب خود سمجھ میں آجاتا ہے۔ اور وہ مثال یہ ہے کہ جب ہم یہ کہیں کہ سو جاکھوں کے سوا کوئی شخص رنگ نہیں پہچان سکتا۔ اور پھر ہم کسی شخص کی نسبت کہیں کہ وہ رنگ پہچان لیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ لغت کے معنوں کے لحاظ سے حقیقی سو جاکھا ہے۔ گو علم باطن کے لحاظ سے وہ اندھا ہو یعنی حق کو پہچان نہ سکتا ہو ۔ مگر جب اس کی نسبت یہ کہا جائے کہ وہ رنگ پہچان لیتا ہے۔ تو لغت کے رو سے وہ مجازی سو جا کھا کبھی نہیں کہلا سکتا بلکہ حقیقی سو جاکھا ہو گا۔ پس جب اللہ تعالٰی نے ایک شرط لگادی کہ سوائے رسول کے اظہار علی الغیب کا مرتبہ کسی کو نہیں ملتا۔ تو جس شخص میں یہ بات پائی جائے گی۔ وہ قرآن کے رو سے حقیقی رسول اور نبی ہو گا۔ اور چونکہ حضرت مسیح موعود میں یہ بات پائی جاتی ہے۔ اس لئے قرآن کریم کی رو سے۔ اسلام کی اصطلاح کے رو سے آپ حقیقی نبی تھے گو اس اصطلاح کے رو سے جو آ ، جو آپ نے لوگوں کو اپنی قسم نبوت کے سمجھانے کے لئے بنائی تھی۔ اور جو یہ ہے کہ حقیقی نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لائے۔ آپ مجازی نبی تھے مگر اس اصطلاح کے رو سے نہ کہ قرآن کریم کے رو سے ۔ پس جو شخص باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود میں وہ بات پائی جاتی ہے۔ جو غیر نبی میں نہیں پائی جاسکتی۔ آپ کو ان معنوں میں مجازی نبی خیال کرتا ہے کہ آپ شریعت اسلام اور قرآن کریم کے بتائے ہوئے معنوں کے لحاظ سے نبی نہیں۔ سخت دھوکے میں پڑا