انوارالعلوم (جلد 2) — Page 493
انوار العلوم جلد ۲ ۴۹۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) بات بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام نبی رکھا۔ پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس کے معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ ہاں حضرت مسیح موعود نے لوگوں کو اپنی نبوت کی قسم سمجھانے کے لئے اصطلاحی طور پر نبوت کی جو حقیقت قرار دی ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ شریعت جدیدہ لائے۔ اس اصطلاح کے رو سے حضرت مسیح موعود هرگز حقیقی نبی نہیں ہیں ۔ بلکہ مجازی نبی ہیں۔ یعنی کوئی جدید شریعت نہیں لائے ۔ خلاصہ کلام یہ کہ مجازی نبی کے لفظ سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں کہ آپ شریعت اسلام کے مطابق نبی نہ تھے۔ بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ نے حقیقی نبی کی جو اصطلاح مقرر فرمائی ہے۔ اور خود ہی اس کے معنی بتا دیتے ہیں۔ وہ اصطلاح آپ پر صادق نہیں آتی۔ اور اس اصطلاح کے رو سے آپ کے مجازی نبی ہونے کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔ اور نہ براہ راست نبی بنے ہیں ۔ نہ یہ کہ آپ نبی ہی نہیں۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں: جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں۔ اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے ۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا" ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه (۲۱۰-۲۱۱) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کی تمام ان تحریرات کا جن سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ آپ نبی نہیں ۔ صرف اس قدر قدر ۔ مطلب ہے کہ آپ پ کوئی کوئی جدید جدید : شریعت نہیں لائے۔ لائے ۔ اور نہ آپ آ نے براہ راست نبوت پائی۔ اور میں اوپر ثابت کر چکا ہوں کہ مجازی نبی کے معنی بھی حضرت صاحب کی کتب میں اسی قدر ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں اور جن لوگوں نے شیر کی مثال پر مجاز کو حصر کر لیا ہے انہوں نے حقیقی نبی کی حقیقت تو الگ رہی خود حقیقت و مجاز کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھا۔ اور اسی سے دھوکا کھا کر حضرت صاحب کی کتابوں میں عَلیٰ طَرِيقِ الْمَجَازِ کا لفظ دیکھ کر دھوکے میں پڑ گئے۔ اور یہ نہ سوچا کہ اس مجاز کے صرف اتنے معنی ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے جو معنی حقیقی نبی