انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 492

۴۹۲ اصول کی انتہائی کتب میں سے ہے۔اس میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔( دیکھوتلویح مطبوعہ نولکشورصفحہ ۱۱۰تا۱۱۲) یہی حقیقت ہے جس کے نہ ھونے کی وجہ سے جناب مولوی محمد علی صاحب کو حضرت صاحب کی کتب میں مجازی کا لفظ ر کھ کر دھوکا لگا ہے۔کیونکہ انہوں نے مجازی شیر کی مثال سنی ہوئی تھی۔اور ان کا خیال تھا کہ شاید یہ مثال مجاز کے معنی ظاہر کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔حالانکہ وہ مثال صرف لغوی مجاز کو ظاہر کرتی ہے۔اور باقی مجاز کی تین قسموں پر اس سے بالکل روشنی نہیں پڑتی۔بات یہ ہے کہ اگر لغت میں نبی کے معنی شریعت لانے والے کے ثابت ہو جائیں یا یہ کہ وہ بلا واسطہ نبوت پائے تو جو شخص شریعت نہیں لایا۔اور نہ اس نے بلاواسطہ نبوت پائی ہے اسے اگر مجازاً نبی کہہ دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ لغت جسے نبی کہتی ہے یہ وہ نبی نہیں بلکہ اس سے کسی قسم کی مشابہت ہے۔اور اگر شریعت اسلام میں نبی کی یہ دونوں شرطیں ثابت ہو جائیں اور پھر کسی کی نسبت دینی کتب میں مجازی نبی کا لفظ مستعمل ہو تو شریعت اسلام کی اصطلاح کے روسے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ شریعت اسلام جسے نبی کہتی ہے۔یہ وہ نبی نہیں ہے بلکہ اسے نبی سے کوئی مشابہت ہے۔اور اگر عرف عام سے نبی میں ان دونوں شرائط کا پایا جانا ثابت ہو۔اور پھر کسی کو عرف عام کے معنوں کو مد نظر رکھ کر مجازی نبی کہہ دیں۔تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ عام لوگوں کے نزدیک جسے نبی کہتے ہیں۔یہ و یسانبی نہیں ہے۔گو شریعت کے مطابق نبی ہو۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ نبی ایک اسلامی اصطلاح ہے۔پس اگر کسی کی نبوت شریت اسلام کی تعریف کی رو سے ثابت ہو جائے تو وہ شریعت اسلام کے مطابق نبی ہو گا۔خواہ لغت یا عوام کےنزدیک حقیقی نبی نہ ہو۔اگر ایک شخص شریعت اسلام کی اصطلاح کے مطابق نبی ہو۔اور کسی اوراصطلاح کے روسے مجازی نبی۔تو اس سے اس کے نبی ہونے میں شک نہیں ہوسکتا۔کیونکہ نبی اصل میں ایک اسلامی عہدہ ہے۔اس لئے اسلامی اصطلاح کالحاظ رکھنا ضروری ہوگا۔حقیقی اور مجازی کی اس تشریح کو سمجھنے کے بعد حضرت صاحب کے اس فقرہ کو لو کہ میں مجازی طور پر نبی ہوں۔اور حقیقی طور پر نبی نہیں ہوں۔اور شریعت اسلام کو دیکھو کہ وہ نبی کسے کہتی ہے اور چونکہ شریعت اسلام قرآن کریم میں ہے اسے جب ہم دیکھتے ہیں۔تو اس میں نبی کی تعریف یہی معلوم ہوتی ہے کہ جس شخص پر کثرت سے اظہار غیب ہو اور انذاری اور تبشیری رنگ اس کی پیشگوئیوں میں پایا جائے اب یہ دونوں باتیں حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی ہیں۔اور تیسری یہ