انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 491

انوار العلوم جلد ۲ ۴۹۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) اسی طرح مثلا کلمہ کا لفظ ہے۔ قرآن کریم کی اصطلاح میں اس لفظ کے معنی ہیں ایک بات اور قول کے جیسے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعَلَى أَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَ مِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ يَوْمِ يُبْعَثُونَ - (المؤمنون : ۱۰۰-۱۰۱) یعنی جب کفار میں سے کسی پر موت وارد ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے الہی مجھے واپس لوٹا دیجئے۔ مجھے واپس لوٹا دیجئے۔ مجھے واپس لوٹادیجئے تاکہ میں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔ کچھ نیک عمل کرلوں۔ خبردار ہا یہ ایک بات ہی ہے جو اس نے کہہ دی۔ ور نہ ان کے پیچھے تو ایک روک حائل ہے قیامت تک۔ اس آیت میں ایک پورے فقرہ کو کلمہ کہا ہے اور قرآن کریم میں بیسیوں جگہ یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور ہر جگہ جملہ اور فقرہ کے معنوں میں ہی آیا ہے ۔ رسول اللہ ا بھی انہی معنوں میں اسے استعمال فرماتے ہیں۔ جیسے کہ فرمایا اصدق كَلِمَةٍ قَالَهَا لَبِيدًا لا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهُ باطل۔ پس محاورہ اسلام میں کلمہ کا لفظ جملہ اور فقرہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح عوام میں بھی یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن صرف و نحو کی کتب میں یہ لفظ ایک الگ اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اور کلمہ لفظ مفرد کو کہتے ہیں پس ایک نحوی جب اس لفظ کو مفرد کے معنوں میں بولے گا۔ تو وہ اس کے حقیقی معنی ہوں گے۔ اور اگر جملہ کے معنوں میں بولے گا تو یہ اس کے مجازی معنی ہوں گے لیکن اگر عام بول چال یا دین کی گفتگو میں کلمہ کا لفظ آئے گا۔ اور اس سے مراد جملہ یا فقرہ لیا جائے گا۔ تو اسے مجازی نہیں کہیں گے ۔ بلکہ یہی کہیں گے کہ عام بول چال کے لحاظ سے حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اور نحویوں کی اصطلاح کے رو سے مجازی معنوں میں اور اس مجازی کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ فقرہ در حقیقت کلمہ ہوتا ہی نہیں۔ غرض کہ مجاز کبھی حقیقت بن جاتا ہے اور کبھی حقیقت مجاز بن جاتی ہے۔ اور ایک ہی لفظ ایک معنوں کے لحاظ سے شریعت میں مجاز ہوتا ہے لیکن لغت میں حقیقت ہو جاتا ہے۔ اور کبھی لغت میں مجاز ہوتا ہے۔ اور عرف خاص میں حقیقت ہو جاتا ہے اور مجاز کے معنی ہمیشہ ایک سے ہی نہیں رہتے بلکہ مختلف حالات میں بدلتے رہتے ہیں۔ اور جس لفظ کی نسبت کہہ دیں کہ یہ مجازی رنگ میں استعمال ہوا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ کسی اعتبار سے بھی اسے حقیقت نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جن حقیقی معنوں کو مد نظر رکھ کر اسے استعمال کیا گیا ہے۔ وہ اس میں نہیں پائے جاتے۔ گو ممکن ہے کہ کسی دوسرے اعتبار سے وہ لفظ حقیقت بھی ہو ۔ جیسا کہ تلویح جو علم