انوارالعلوم (جلد 2) — Page 483
انوار العلوم جلد ۲ ۴۸۳ حقيقة النبوة ( حصہ اول) جائیں اور بہتوں کے ایمان ضائع ہو جائیں۔ اللہ تعالٰی اپنی ہستی کا ثبوت تو قادرانہ کاموں سے ہی دیتا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو انسان کی ماری آنکھ کہاں دیکھ سکتی ہے۔ اور اگر اس کی قدرت اپنے ظہور سے رک جائے تو خدا تعالی کا ماننا انسان کے لئے نا ممکن ہو جائے ۔ پس یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالی کے پیاروں کی ہتک ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی غیرت اس پر بھڑک اٹھتی ہے مجھے یہ معلوم کر کے نہایت افسوس ہوا ہے کہ بعض لوگ جن کو یہ نہیں معلوم کہ حضرت مسیح موعود نے مذکورہ بالا اصطلاحات کے کیا معنی کئے ہیں۔ اپنی طرف سے ان اصطلاحات کے معنی کرتے ہیں۔ اور پھر حضرت مسیح موعود کی ہتک کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں اس قسم کا ایک واقعہ لکھا جاتا ہے۔ برادرم قاضی محمد یوسف خان صاحب پشاوری جو مبالغین کی جماعت میں شامل ہیں۔ اور ایک اور شخص کے درمیان جو غیر مبالغین سے ہے اور جس کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں کسی موقع پر نبوت کے متعلق گفتگو ہو پڑی۔ غیر مبائع صاحب نے کہا کہ مردان کے منشی محمد یوسف صاحب لکھتے ہیں کہ ہم تو آنحضرت ا اور مرزا صاحب دونوں کو ایک جیسا مانتے ہیں اس پر قاضی محمد یوسف صاحب نے جواب دیا کہ درجہ کے لحاظ سے تو ہم ایک جیسا نہیں مانتے آنحضرت ا آتا تھے ۔ حضرت مسیح موعود غلام تھے ۔ آنحضرت ا استاد تھے۔ مسیح موعود شاگر دتھے ۔ ہاں یہ ہمارا ایمان ہے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ کلی طور پر آنحضرت ا کے کمالات پانے کی وجہ سے آپ ان کے مشابہ ہو گئے۔ اور یہ ان کا قول بالکل درست تھا لیکن غیر مبائع صاحب اس بات کو سن کر جوش میں آگئے ۔ اور کہنے لگے کہ کل کیا شئے ہے ظل تو اصل کا پاخانہ اٹھانے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ اور جب ان کو کہا گیا کہ آپ تو مسیح موعود کی ہتک کرتے ہیں تو آپ بجائے شرمندہ ہونے کے کہنے لگے کہ ظل تو اس قابل ہے کہ پاؤں میں روند کر پاخانہ میں پھینک دیا جائے ۔ جب اس پر پھر ان کو سمجھایا گیا۔ تو کچھ سوچ کر اپنی غلطی معلوم کی۔ اور اپنے پچھلے فقرات کی اور کوئی تاویل کرنی چاہی اور کہا کہ میرا مطلب وہ نہ تھا جو آپ لوگ سمجھے ہیں بلکہ اور تھا۔ چنانچہ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت ا نے بھی ایک یہودی کا پاخانہ دھویا تھا۔ ﷺ لیکن یہ خیال نہ کیا کہ میں آنحضرت ا کی افضلیت پر بھی حملہ کر رہا ہوں اِنَّا لِلَّهِ وَا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ ۔ یہ سب نتیجہ تھا حق کی مخالفت کا۔ اور ظل کے معنی نہ سمجھنے کا۔ احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن سات قسم کے مومنوں کے سر پر اللہ کا سایہ ہو گا۔ اب بتاؤ کہ کیا اس ظل کی بھی ہنک