انوارالعلوم (جلد 2) — Page 481
انوار العلوم جلد ۲ ۴۸۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت نامہ نہیں مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالٰی سے ہم کلام ९९ ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں " توضیح مرام صفحه ۱۲ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷۰) جزئی نبوت کی یہ تعریف جو آپ نے کی ہے توضیح مرام میں ہے اور جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں تو ضیح مرام کے وقت آپ کا یہی خیال تھا کہ جس قسم کی نبوت مجھے حاصل ہے یہ در حقیقت نبوت نہیں اور سب محدث میرے شریک ہیں۔ چنانچہ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ آپ نے اس میں محدث کو نبی قرار دیا ہے حالانکہ جیسا کہ میں اوپر ثابت کر آیا ہوں بعد میں آپ نے اس بات کو کہ محدث بھی نبی کہلا سکتا ہے غلط ثابت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ محدث نبی نہیں کہلا سکتا۔ پس یہ حوالہ تو محد ثیت کے عقیدہ کے ترک کرنے کے ساتھ ہی ۱۹۰۱ء سے منسوخ ہے۔ اور حضرت مسیح موعود اس خیال کو ہی رد کر چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ۱۹۰۰ء کے بعد حضرت مسیح موعود نے اپنی نبوت کے متعلق کہیں بھی جزوی یا ناقص نبوت نہیں لکھا۔ حالانکہ اس سنہ ۴ کے بعد جس کثرت سے نبوت کا ذکر آپ کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ پہلی کتابوں میں اس کثرت سے نہیں ملتا۔ پس ایک طرف محد ثیت کے نام کا ترک اور نبوت کی تعریف میں تبدیلی اس بات پر شاہد ہیں کہ جزوی نبوت کی اصطلاح کو حضرت صاحب ترک کر چکے ہیں تو دوسری طرف اس لفظ کا ہی ترک کر دینا ثابت کرتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو پہلے ایسا نبی خیال نہیں کرتے تھے ۔ ہاں اگر کوئی شخص جزوی نبی کی اصطلاح سے یہ مراد لے کہ نبوت تو ہے۔ لیکن ساتھ شریعت جدیدہ نہیں تو ان معنوں سے ہم اس لفظ کو قبول کر سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ حضرت مسیح موعود کی مذکورہ بالا اصطلاحات اور ان کے وہ معنی جو خود حضرت مسیح موعود نے کئے ہیں۔ دیکھ کر ہر ایک دانا انسان اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان سب اصطلاحات کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ ایک نبی شریعت لانے والے ہوتے ہیں۔ ایک بغیر شریعت کے ہوتے ہیں۔ اور ایک نبی دوسرے کی اتباع سے نبی بنتے ہیں۔ پس اگر حضرت مسیح موعود نے کہا کہ میں حقیقی نبی نہیں ہوں یا مستقل نبی نہیں ہوں یا میری نبوت نامہ نہیں ہے تو ان سب اصطلاحات کے صرف اس قدر معنی ہوں گے کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ آپ کو نبوت بلا واسطہ ملی ہے اور اگر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں ظلی یا بروزی کہتے ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی نبوت بالواسطہ ہے اور