انوارالعلوم (جلد 2) — Page v
درد، عزم و ولولہ اور ایمان و توکل دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ اس مجموعہ کی ہر سطر یہ اعلان کر رہی ہے کہ وو وہ جلد جلد بڑھے گا اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا" اللہ تعالیٰ کے لامتناہی احسانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حضور نہایت عاجزی سے عرض کرتے ہیں۔ میں اپنے مولیٰ کے احسانات کا شکریہ کس منہ سے ادا کروں اور اس کے احسانات کو کس زبان سے گنوں کہ میرا منہ اور میری زبان اس کام کو پورا نہیں کر سکتے۔ میرے جسم کا ذرہ ذرہ بھی اگر گویا ہو تو اس کے بحر عطایا کے ایک قطرہ کا شکریہ ادا نہ ہو سکے۔ ایسے خطرناک متلاطم سمندر میں سے جماعت کا جہاز گزرے اور میرے جیسے نا تجربہ کار اور ناواقف اور کمزور ملاح کے ہاتھوں میں اس کی پتوار ہو اور پھر بھی کشتی سلامت گزر جائے یہ کس کا کام ہو سکتا ہے؟ صرف خدا کا ۔۔۔۔ میرے پیارے رب! تو آپ ہی بتا کہ ہم کس طرح تیرے احسانات کا شکریہ ادا کریں کیونکہ ہماری عقلیں کو تاہ اور ہمارے فہم کمزور ہیں۔ ہم تیرے پہلے بھی محتاج تھے اور اب بھی محتاج ہیں اور آئندہ بھی تیرے ہی محتاج ہونگے۔ پھر ہمیں اے بادشاہ سوال کرنے میں کیا شرم ہو۔ وہ شخص جس نے کبھی سوال نہ کیا ہو شرماتا ہے لیکن جو ہر وقت مجسم سوال بنا رہے اسے سوال کرتے ہوئے کیا شرم آسکتی ہے۔ پس اے میرے رب! تیرے حضور میں عاجزانہ عرض کرتا ہوں اسے قبول فرما کہ بادشاہوں کے دروازوں سے گدا خالی ہاتھ نہیں لوٹا کرتے ۔۔۔۔۔ ہم سب ملکر تیرے نام کو دنیا پر روشن کریں۔ طاقتور شہنشاہ! یہ تیرے لئے کچھ مشکل تجھ سے سو نہیں ؟؟ شکریہ اور اعلان ضروری صفحہ ۵٬۴) حضور کی علمی رہنمائی، تربیت، روحانی فیوض اور دعاؤں کی برکات سے ہمیشہ مستفیض ہونے کے لئے یہ مجموعہ بہترین مواقع مہیا کرتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس سے استفادہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس جلد کی تیاری کے سلسلہ میں خاکسار کا خصوصی