انوارالعلوم (جلد 2) — Page 479
۴۷۹ نے کئے ہیں درج کردیتا ہوں تاکہ ہر ایک طالب حق ان کو یاد رکھے اور دھوکے میں پڑنے سے بچ جائے۔اصطلاحات مسیح موعوداس کے معنی خودحضرت مسیح مو عودنے فرمائے حقیقی نبوت ومن قال بعد رسولنا وسیّدنا انّی نبیّ او رَسُول علٰی وجہ الحقیقۃ والافتراء وترک القرآن واحکام الشریعۃ الغرّاء فھو کافرٌ کذّابٌ۔غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہتاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا۔اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔“ (انجام آتھم - روحا ني خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۲۷،۲۸ حاشیہ) مستقل نبوت ’’ بنی اسرائیل میں اگر چہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا۔(حقیقۃالوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۰ حاشیہ ) مستقل نبی یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعوی ٰکرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسانبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی بھی حاجت نہیں رکھتا۔(اخبار عام ۲۳مئی ۱۹۰۸ء) * بحوالہ بدر نمبر۳۳ جلد ۷ صفحہ ۱۰ ۱۱ جون ۱۹۰۸ء