انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 474

انوار العلوم جلد ۲ ۴۷۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) اظہار علی الغیب کا درجہ یعنی جس درجہ محبت کو حاصل کر کے انسان کو غیب الہی پر غلبہ حاصل ہو جاتا ہے جس کے معنی کثرت کے ہیں اس کا نام رسالت اور ثبوت ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ نبوت اظہار علی الغیب کے مقام کا نام ہے جس کا اردو میں ترجمہ رازدار ہو گا جس طرح کہہ سکتے ہیں کہ نبی کے سوا کسی کو اظہار علی الغیب کا رتبہ نہیں مل سکتا۔ خلاصہ کلام یہ کہ نبوت کی تعریف اور اس کے حصول کا طریق اللہ تعالی نے قرآن کریم میں صاف طور پر بیان کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ یہ ایک انسانی کمال کا رتبہ ہے جس پر پہنچ کر انسان غیب الہی سے واقف کیا جاتا ہے اور اس سے پہلے مراتب صالح شہید اور صدیق کے ہیں اور رسول اس درجہ کے پانے والے کو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جاتا ہے اور نبی اس لئے کہ وہ غیب کی اخبار لوگوں کو بتاتا ہے اور چونکہ قوت ایمانی اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتی جب تک دلائل و براہین ساتھ نہ ہوں اس لئے بھی اللہ تعالیٰ اپنے ایسے بندوں کو جن کو رسول کرتا ہے اظہار علی الغیب کا رتبہ دیتا ہے تا جس طرح ان کے اپنے ایمان تازہ ہیں وہ لوگوں کے ایمان بھی تازہ کر سکیں۔ یہ باتیں میں نے بطور اختصار اس لئے بتائی ہیں تا معلوم ہو جائے کہ قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے اور اس نے ہر ایک ضروری بات بیان کر دی ہے۔ اور یہ بات غلط ہے کہ اس نے نبی کی تعریف نہیں کی اس نے خود نبی کی تعریف اور اس کے شرائط اور اس کا درجہ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ اس نے بیان فرمایا ہے اس کے رو سے حضرت مسیح موعود کی نبوت ثابت ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہرگز شریعت لانے یا نہ لانے کی شرط نہیں لگائی اور میں خیال کرتا ہوں کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے منکر ہیں انہوں نے آج تک اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ نبوت چیز کیا ہے اور نبی کون ہوتا ہے ؟ ورنہ اگر وہ قرآن کریم پر تدبر کرتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ حضرت کردہ مسیح موعود نبی تھے اور ان کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی دوسرے نبی کا متبع نہیں ہو سکتا۔ اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَ ما أَرْ سَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِا ن الله (النساء: ۷۵) اور اس سے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب موعود کی خلاف یہ سبب قلت تدبر ہیں جب اللہ تعالیٰ خود دوسری جگہ فرماتا ہے کہ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَةً فِيْهَا هُدًى وَ نُور يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّو ن (المائده : ۴۵) یعنی ہم نے توریت اتاری ہے جس میں ہدایت و نور ہے اس