انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 473

۴۷۳ جماعت کو درست کرنا پڑا تھا۔پس صدیق اسے کہتے ہیں جو شہید سے بڑھ کر صداقت پر اپنے آپ کو قائم کرے اور ایساصدق ظاہر کرے کہ اللہ تعالی ٰکا کلام سننے کا بہت زیادہ مستحق ہو جائے اور ایسے آدمی پر اللہ تعالیٰ اپنے کلام کی بارش نازل کرتا ہے اور یہ محدث کا آخری درجہ ہو تا ہے اور یہ درجہ امت محمدیہ ؐہے میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں نے پایا ہے یہ لوگ بھی کلام الہٰی کے سننے میں خاص حصہ رکھتے ہیں۔لیکن اس کثرت کو نہیں پاتے جس سے رتبہ نبوت کو پہنچ جائیں اس درجہ سے بڑھ کرنبی یا رسول کا درجہ ہے جسے اللہ تعالی ٰنے مذکورہ بالا آیت میں سب سے آخر میں رکھا ہے اور یہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جیسے بادشاہ کے راز دار۔اور وہ انہی کی معرفت دنیا پر اپنے غیب ظاہر کرتا ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی ٰفرماتا ہے کہ فلا يظهر على غيبه أحدا الأمن ارتضى من رسول (الجن : ۲۶-۲۷» یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جن سے راضی ہو تا ہے یعنی جو اس کے رسول کہلاتے ہیں انہی کو اپنے غیب پر غالب کرتا ہے۔اور یہ بات ہر ایک شخص جانتا ہے کہ رازوں پر صرف خاص دوستوں کو واقف کیاجاتا ہے پس اللہ تعالی ٰبھی اپنے غیبوں پر غالب اسی کو کر تا ہے جو اس کی محبت کے انتہائی نکتہ پر پہنچ جاتے ہیں اور اس کا کسی شخص کو اپنے غیب پر غالب کردینا یعنی کثرت سے امور غیبیہ پر اسے مطلع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اب یہ شخص محبت کے انتہائی نقطے کو پہنچ گیا ہے اور دائرہ نبوت میں داخل ہو گیا۔میرا اس تمام بیان سے یہ مطلب ہے کہ نبوت کوئی الگ چیز نہیں کہ وہ مل جائے تو انسان نبی ہو جاتا ہے بلکہ اصل بات یہی ہے جیسا کہ میں اوپر قرآن کریم سے ثابت کر آیا ہوں کہ انسانی ترقی کےآخری درجہ کا نام نبی ہے جو انسان محبت الہٰی میں ترقی کر تاہؤاصالحین سے شہداء اور شہداءسےصدیوں میں شامل ہو جاتا ہے وہ آخر جب اس درجہ سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحبِ سرِّالہٰی بن جاتاہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے غیبوں پر غالب کر دیتا اور اعتماد کے آخری مرتبہ پر اسے پہنچادیتاہےکیونکہ واقف اسرار کردینے کے بعد کوئی دوئی نہیں رہتی اور غیب واسرارسے مرادوه بار یک در باریک مقامات معرفت ہیں جن تک کسی غیرکی نظر نہیں پہنچ سکتی اور جن کو اللہ تعالیٰ کے انبیاء معلوم کرتے ہیں اور پھر بندوں تک پہنچاتے ہیں اسی طرح آئندہ کا حال ہے یہ بھی اسرار الہٰی میں سے ہے اور اللہ تعالی ٰنے اسے اپنے ہی قبضہ میں رکھا ہے لیکن اپنے ان بندوں کو اللہ تعالی ٰاس سےبھی واقف کرتا ہے۔اور گو وہ عالم الغيب ان معنوں سے تو نہیں ہوتے کہ ہر بات ان کو معلوم ہولیکن اللہ تعالیٰ بہت سے اسرار ان پر کھولتا رہتا ہے جو عظیم الشان امور کے متعلق ہوتے ہیں۔پس