انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 472

۴۷۲ جاتے ہیں یعنی صدق میں درجہ کمال تک پہنچے ہوئے۔اور ان کو صدیق اس لئے کہتے ہیں کہ ان کی معرفت زیادہ ہو کر ان کی نظر شہداء سے بھی زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جیساان کا بیان سچا ہو تا ہے۔اس حد تک شہداء کا علم نہیں پہنچتا۔اور یہ جن بار یک صداقتوں کا اظہار کرتے ہیں۔شہداء ان کو بیان نہیں کرسکتے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو آپ ؐمسجد میں آئے اور ایک خطبہ بیان کیا۔اور اس خطبہ میں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے سامنے دو باتیں پیش کیں۔ایک تو یہ کہ وہ دنیا کو اختیار کرے۔اور دوسری یہ کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اسے پسند کرے۔پس اس بندے نے جو کچھ خدا تعالی ٰکے پاس ہے اسے قبول کرلیا۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق ؓبے اختیار رو پڑے اور آپ کی چیخیں نکل گئیں۔اور آپ نے فرمایا۔یا رسول اللہ ﷺہم آپ پر اپنے ماں باپ قربان کردیں گے۔آپ کے رونے اور اس طرح بول اٹھنے پر صحابہؓ بہت حیران ہوئے اور بعض نے کہا کہ ان کو کیا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ تو کسی بندہ کا حال ناتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دو باتوں میں سے ایک بات پسند کرنے کا اختیار دیا تھا۔اور یہ اسے سن کر رو رہے ہیں۔لیکن ابو بکر ؓنے جس صدق کو پایا تھا۔اور جس راستی کو سمجھ لیا تھا۔اس کو نہ حضرت عمرؓ سمجھ سکے۔نہ کوئی اور صحابی۔بات یہ تھی کہ اس وقت سید الکونین اپنی وفات کی خبر دے رہے تھے جسے سن کر اس صادق القول کادل جس نے اپنے قول کی اپنے عمل سے شہادت دے دی تھی۔اور جو اپنے ہادی کی ہر ایک حرکت اور سکون اور ہر ایک قول کا نہایت غور سے مطالعہ کرتا رہتا تھا اور گویا اپنے وجود کو اس کے وجود میں فنا کر چکا تھا ہے بے اختیار ہوگیا۔غرض صدیق یعنی بہت ہی سچ بولنے والا انسان شہید سے اوپر ہو تا ہے۔اور اپنے ہر قول کی تائیداپنے عمل سے کرتا ہے۔اور اس کی فطرت نبیوں کی سی فطرت ہوتی ہے اور اس کے کام نبیوں کےسے کام ہوتے ہیں۔لیکن کسی قدر کمی اور نقص کی وجہ سے وہ درجہ نبوت پانے سے روکا جاتا ہے۔ورنہ اس حد تک پہنچا ہوا ہو تا ہے کہ قریب ہے کہ وہ نبی ہوہی جائے بلکہ جزوی نبوت اسے مل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے تجدید دین کا کام لیتا ہے۔چنانچہ حضرت ابو بکرؓ کو بھی جو صدیق تھے تجدیددین کا کام کرنا پڑا اور آنحضرت ﷺکے بعد سب عرب مرتد ہو گیا اور آپ کی سعی جمیل سے پھراس نے ہدایت پائی اور اس طرح آپ نے بھی ایک رنگ میں تجدید دین کردی گواس قدر فرق تھا کہ آنحضرت ﷺ کو ایک نئی جماعت بنانی پڑی تھی اور حضرت ابو بکر صدیقؓ کو ایک بگڑی ہوئی