انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 471

۴۷۱ گواہی کے لئے موقعہ پر موجود ہونا ضروری ہو تا ہے۔اور سچا گواہ و ہی ہو سکتا ہے جو سنی سنائی بات پر گواہی نہ دے۔شہید کے لفظ سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی اس جماعت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔جو دنیاوی درباروں میں درباری کے نام سے موسوم ہوتے ہیں۔اور مطلب یہ ہے کہ جب انسان حقوق الله و حقوق العباد کی ادائیگی میں کمال اخلاص ظاہر کرتا ہے۔تو اسے شہیدوں یعنی دربار الہٰی کے حاضرباشوں میں شامل کرلیا جاتا ہے اور اے ای معرفت الہٰی حاصل ہوتی ہے کہ گویا وہ ہر وقت اللہ تعالٰی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہتا ہے۔اور جو شخص حاضر ہو گا وہ کلام بھی سنے گا۔اس لئے شہید محدث بھی ہوتاہے لیکن اس سے اللہ تعالیٰ کا کام شروع ہو جاتا ہے۔چنانچہ حضرت عمرؓ محدث تھے اور اللہ تعالی ٰنے ان کو شہداء میں شامل فرمایا ہے بلکہ ظاہری شہادت بھی دی ہے۔پس شہید سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالی ٰکے حضور حاضر رہتے ہیں لیکن اپنے دل کی آنکھوں سے ہر وقت اس کے جلال اور اس کی شان کا مطالعہ کرتے ہیں۔اور اس کے قریب ہو جاتے ہیں۔اور عام صالحین سے ان کا درجہ بلند ہو جاتا ہے کیونکہ عام رعایا تو کبھی کبھی دربار شاہی میں جاسکتی ہے لیکن یہ لوگ ہروقت اسی دربار میں رہتے ہیں اور چونکہ یہ لوگ کسب سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے علم پاتےہیں اس لئے ان کا علم نہایت درست ہوتا ہے۔اور یہ لوگ جو کچھ اللہ تعالی کی نبوت اور اس کے دین کی نسبت بیان کرتے ہیں۔چونکہ خود اللہ تعالی ٰکے فیضان سے حاصل کرتے ہیں وہ نہایت راست اور درست ہوتا ہے۔اور وہ باریکیاں جن تک وو سروں کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔ان کے لئے معمولی ہوتی ہے۔اور نہایت باریک نظر ان کو عطا کی جاتی ہے پس اس لئے بھی کہ ان کا بیان نہایت سچا ہوتا ہے۔ان کا نام شہید رکھا جاتاہے جس کے معنی سچے گواہ کے بھی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان دینے والا انسان بھی شہید اسی لئے کہلاتا ہے کہ وہ اپنی جان دے کر اپنی گواہی کی صداقت ثابت کر دیتا ہے کہ میں جو دعوی ٰایمان کیا کرتا تھا۔اور اپنے ایمان کے متعلق جو کچھ بیان کرتا تھا۔وہ سچ تھا جھوٹ نہ تھا غرض صالح سے ترقی کر کے انسان شہید بن جاتا ہے اور یہ درجہ محد ثیت کا درجہ ہے اور جب انسان اس درجہ پر پہنچ کر اور فرمانبرداری دکھاتا ہے اور زیادہ اطاعت کرتا ہے تو اس وقت یہ اللہ تعالٰی کا اور کبھی مقبول اور پیارا ہو جاتا ہے۔اور شہیدوں میں سے بھی خاص رتبہ اسے بخشا جاتا ہے۔اور یہ اللہ تعالی ٰکے ان بندوں میں سے ہو جاتا ہے۔جن پر اللہ تعالی ٰاپنی خاص نظر عنایت فرماتا ہے اور انبیاء کی طرح ان کی زبان پر بھی خون جاری ہو جاتاہے۔اور ان کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو اللہ تعالیٰ پوری کر دیتا ہے۔اور اس طرح یہ لوگ صدیق ہو