انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 30

انوار العلوم جلد ۲ ٣٠ منصب خلافت اُس وقت حاکم کی کیسی اطاعت کرنی چاہئے ۔ اس میں یہ بھی بتایا کہ خلفاء پر اعتراض ہوا ہی کرتا ہے اور آخر اللہ تعالیٰ ان کو غلبہ دیتا ہے۔ ان حکموں کے بتانے کے بعد تزکیہ رہ گیا تھا اس کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ اس سورۃ کو دعا پر ختم کیا ہے۔ جس میں یہ بتایا ہے کہ تزکیہ کا طریق دعا ہے۔ نبی بھی دعا کرے اور جماعت کو بھی دعا کی تعلیم دے۔ آپ لوگ اس سورۃ کو اب پڑھ کر دیکھیں جس ترتیب سے آیت مذکورہ میں الفاظ ہیں اسی ترتیب سے اس سورۃ میں آیات اور کتاب اور حکمت اور طریق تزکیہ بیان فرمایا ہے۔ پس یہ آیت اس سورۃ کی گنجی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں دی ہے۔ الغرض نبی کا کام بیان فرمایا تبلیغ کرنا کافروں کو مؤمن کرنا مؤمنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر بار یک در باریک راہوں کا بتانا، پھر تزکیہ نفس کرنا، یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں۔ اب یا د رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہی کام اس وقت میرے رکھتے ہیں ۔ آیات اللہ کی تلاوت میں اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلائل، ملائکہ پر دلائل ضرورت نبوت اور نبوت محمدیہ کے دلائل قرآن مجید کی حقیت پر دلائل اور ضرورت الہام و وحی پر دلائل، جزاء وسزا اور مسئلہ تقدیر پر دلائل قیامت پر دلائل شامل ہیں یہ معمولی کام نہیں ۔ اس زمانہ میں اس کی بہت بڑی ضرورت ہے اور یہ بہت بڑا سلسلہ ہے۔ پھر يُعَلِّمُهُمُ الكِتب دوسرا کام ہے بار بار شریعت پر توجہ دلائے اور احکام و اوامر الہی کی تعمیل کے لئے یاد دہانی کراتا رہے، جہاں سستی ہو اس کا انتظام کرے اب تم خود غور کرو کہ یہ کام کیا چند کلرکوں کے ذریعہ ہو سکتے ہیں اور کیا خلیفہ کا اتنا ہی کام رہ جاتا ہے کہ وہ چندوں کی نگرانی کرے اور دیکھ لے کہ دفتر محاسب ہے، اس میں چندہ آتا ہے اور چند ممبر مل کر اسے خرچ کر دیں۔ انجمنیں دنیا میں بہت ہیں اور بڑی بڑی ہیں جہاں لاکھوں روپیہ سالانہ آتا ہے اور وہ خرچ کرتی ہیں مگر کیا وہ خلیفہ بن جاتی ہیں؟ خلیفہ کا کام کوئی معمولی اور رذیل کام نہیں یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل اور امتیاز ہے جو اُس شخص کو دیا جاتا ہے جو پسند کیا جاتا ہے۔ تم خود غور کر کے دیکھو کہ یہ کام جو میں نے بتائے ہیں میں نے نہیں خدا نے بتائے ہیں کیا کسی انجمن کا سیکرٹری اس کو کر سکتا ہے؟ ان معاملات میں کوئی