انوارالعلوم (جلد 2) — Page 466
انوار العلوم جلد ۲ ۴۶۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) سے زیادہ بوجھ نہ پڑ جائے۔ پھر دس سال بعد وفات مسیح کے مسئلہ پر سے پردہ اٹھا دیا۔ لیکن مسئلہ نبوت پر ایک پردہ پڑا رہا۔ تاکہ جماعت اپنے اندر ایک مضبوطی پیدا کر لے۔ حتی کہ ۱۹۰۱ء میں اس پردہ کو بھی اٹھا دیا ۔ اور حقیقت کھل گئی اور صداقت ظاہر ہو گئی۔ اور یہ جو کچھ ہوا ۔ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت کے ماتحت ہوا اور نبوت کا مسئلہ بالکل مسیحیت کے مسئلہ کے مطابق ہے جس طرح اوائل میں باوجود مسیح نام پانے کے مسیح کو زندہ سمجھتے رہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود باوجود نبی کا نام پانے کے ختم نبوت کے وہ معنی کرتے رہے۔ جو لوگ کرتے تھے ۔ پھر جس طرح دعوائے مسیحیت کے بعد شروع شروع میں یہ کہتے رہے کہ ممکن ہے ابھی کوئی اور مسیح بھی ظاہر ہو ۔ اور اپنی طرح اور مسیح بھی مانتے رہے۔ لیکن بعد میں انکشاف نام پر لکھ دیا کہ میرے بعد اور کوئی مسیح نہیں۔ اسی طرح آپ پہلے اپنی نبوت کو جزوی قرار دے کر امت محمدیہ میں سے اور بہت سے لوگوں کو بھی اس انعام میں اپنا شریک سمجھتے رہے۔ لیکن بعد میں انکشاف نام پر لکھ دیا کہ میرے سوا اور کوئی شخص اس نام کا مستحق نہیں۔ پس یہ ایک حکمت الہی کا کرشمہ تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت کا اظہار تھا اور نادان ہے وہ جو اس پر اعتراض کرے اور اسے مستبعد قرار دے ۔ کیونکہ ایسا اعتراض کل نبیوں پر پڑے گا۔ میں اس جگہ یہ بھی لکھ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ شیطان کسی شخص کو یہ دھوکا نہ دے کہ جبکہ تعریفوں کے اختلاف کی وجہ سے حضرت صاحب کے نبی ہونے یا نہ ہونے کا جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو پھر اس میں کیا حرج ہے کہ ایک جماعت نبی کی وہی تعریف قرار دے کر جو عوام میں مشہور ہے۔ مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرتی رہے اور یہ تو آپ بھی مانتے ہیں کہ ان معنوں میں جو عوام میں نبی کے مشہور ہیں۔ حضرت مسیح موعود نبی نہیں ہیں۔ سو اس دھوکے کے ازالہ کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ جب خدا تعالی نے خود ایک بات کی تشریح فرمادی۔ تو اس تشریح کو چھوڑ نا صرف لفظی بحث ہی نہیں سمجھا جائے گا۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی ہتک اور ان کی بے قدری ہو گی۔ جب خدا تعالیٰ ایک شخص کو نبی قرار دے ۔ اور قرآن کریم اس کی نبوت کی شہادت دے ۔ تو پھر نبی کے اور معنی کر کے اس کی نبوت کا انکار کرنا گویا اللہ تعالی کے فیصلوں سے تمسخر کرنا اور اس کے رسول کی ہتک کرنا ہے۔ اور ہر ایک مؤمن کا فرض ہے کہ وہ ایسے کاموں سے بچے جو اسے جہنم کے قریب کر دیں۔ اور چاہئے کہ بجائے اپنے خیالات پر جما رہنے کے اللہ تعالی کے فیصلہ کو اور اس کے حکم کو قبول کیا جائے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جو لوگ اوپر کے مضمون کو غور سے پڑھیں گے ۔ انہیں معلوم ہو جائے گا