انوارالعلوم (جلد 2) — Page 465
انوار العلوم جلد ۲ ۴۶۵ حقيقة النبوة (حصہ اول) ماننے کی تو ایک وجہ تھی۔ اور وہ یہ کہ گو الفاظ قرآن سے تو وفات مسیح ثابت تھی لیکن چونکہ قرآن کریم میں رفع اور احادیث میں نزول مسیح کا ذکر تھا۔ اس لئے اس شبہ کا پیدا ہو جانا کچھ بعید نہ تھا کہ حضرت مسیح زندہ ہی ہیں اور خصوصاً اس حالت میں کہ سب مسلمان انہیں زندہ مانتے تھے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسی طرح نبوت کا مسئلہ بھی تھا کہ باوجود اس کے کہ الفاظ قرآن صاف شاہد تھے کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ لانے یا براہ راست نبوت پانے کی کوئی شرط نہیں لیکن پھر بھی قرآن کریم میں خاتم النبین اور حدیث میں لا نبی بعدی کے الفاظ شبہ پیدا کرتے تھے کہ اس امت میں نبی آنا محال ہے اور خصوصاً اس حالت میں کہ عوام کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ نبی وہی ہوتا ہے جو شریعت جدیدہ لائے یا براہ راست نبوت پائے۔ پس اس غلطی کا لگ جانا بھی کچھ بعید نہ تھا۔ اور جیسا کہ میں بارہا اشارہ کر چکا ہوں انبیاء تو نہایت محتاط ہوتے ہیں۔ وہ تو صریح حکم کے بغیر اپنے پاس سے کوئی بات کہتے ہی نہیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان حکمتوں میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں پر رحم فرما کر اور ان کے ایمانوں کو آہستہ آہستہ مضبوط کرنے کے لئے بعض باتوں کو رفتہ رفتہ ظاہر کرتا ہے جیسے " کہ قرآن کریم کی نسبت فرمایا ہے کہ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُعَلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَهُ تَر تيلا (الفرقان : ۳۳) یعنی مخالف لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس پر قرآن کریم ایک ہی دفعہ کیوں نہ نازل ہو گیا۔ اسی طرح ہوا تاکہ تیرے دل کو ہم اس سے ثابت کریں اور ہم نے آہستہ آہستہ قرآن کریم پڑھ کر سنایا ہے اسی سنت قدیمہ کے ما تحت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے سلوک کیا۔ اور آپ کی جماعت کو بہت سے ابتلاؤں سے بچالیا۔ اگر آپ کو یک لخت مسیح کی وفات اور اپنی نبوت کے اعلان کرنے کا حکم ہو تا۔ تو آپ کی جماعت کے لئے سخت مشکلات کا سامنا ہوتا۔ پس اللہ تعالی نے پہلے آپ سے براہین احمدیہ لکھوائی اور گو اس میں آپ کو مسیح قرار دیا۔ لیکن انکشاف تامہ نہ کیا۔ تا آپ کو اس عظیم الشان کام کے لئے تیار فرمائے جس پر آپ کو مقرر فرمانا تھا۔ اور مسیح کی وفات پر پردہ اس لئے ڈالے رکھا کہ اگر حضرت مسیح موعود کو اس وقت یہ بات معلوم ہو جاتی تو آپ اس کا اسی وقت اعلان کر دیتے۔ لیکن اللہ تعالٰی اپنی سنت قدیمہ کے تحت چاہتا تھا کہ سب کام ترتیب وار اور آہستہ آہستہ ہو۔ پس اس نے مسیح موعود کو بھی اصل بات سے ناواقف رکھا۔ اسی طرح آپ کو براہین کے زمانہ میں ہی نبی قرار دیا۔ لیکن اس پر بھی ایک پردہ اخفاء ڈالے رکھا۔ دونوں باتیں براہین احمدیہ کے زمانہ میں ظاہر تو اس لئے کیں تاکہ یہ نہ ثابت ہو کہ کوئی منصوبہ ہے۔ اور پوشیدہ اس لئے رکھیں تا متلاشیان صداقت پر حد