انوارالعلوم (جلد 2) — Page 464
انوار العلوم جلد ۲ ۴۶۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) آپ پہلے اور تعریف خیال کرتے رہے۔ جو عوام کے عقیدہ کے مطابق تھی۔ لیکن بعد میں مزید انکشاف پر وہ غلط معلوم ہوئی۔ اور اب اس پر ضد کرنا ایک نادانی کا فعل ہے۔ پس اس معاملہ کی مشابہت بالکل مسیح کی وفات کے مسئلہ سے ہے۔ حضرت مسیح موعود کے دعوئی سے پہلے جس قدر اولیاء صلحاء گزرے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا گر وہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح کو زندہ خیال کرتا تھا۔ لیکن وہ مشرک اور قابل مواخذہ نہ تھا۔ مگر جب حضرت مسیح موعود نے قرآن کریم سے وفات مسیح ثابت کر دی ۔ اور حیات مسیح کے عقیدہ کو مشرکانہ ثابت کر دیا۔ تو اب جو شخص حیات مسیح کا قائل ہو وہ مشرک اور قابل مواخذہ ہے۔ اسی طرح نبی کی تعریف قرآن کریم سے صاف ظاہر ہے لیکن عوام میں ایک غلط خیال پھیل رہا تھا۔ اور بہت سے صلحائے امت اس خیال پر گذر گئے۔ اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ نادان تھے جس طرح نہیں کہہ سکتے کہ حضرت مسیح کی حیات کے عقیدہ سے وہ مشرک تھے ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے کچھ اسرار ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنے وقت پر ظاہر کرتا ہے۔ اور یہ مسائل بھی انہیں مسائل میں سے تھے۔ تابچوں اور جھوٹوں کے ایمانوں کی آزمائش کی جائے۔ جب خدا تعالیٰ نے ان پوشیدہ صداقتوں کو مسیح موعود پر کھول دیا تو اب اس کے خلاف عقیدہ رکھنا نادانی ہے۔ ممکن ہے کسی شخص کو اس جگہ یہ شبہ گزرے کہ اگر جیسا کہ آپ بیان کرتے ہیں نبی کی تعریف ایسی صاف تھی۔ اور قرآن کریم میں کہیں بھی نبی کے لئے صاحب شریعت ہونے یا بلا واسطہ نبوت پانے کی شرط مذکور نہ تھی تو ہم کس طرح مان لیں کہ حضرت مسیح موعود عام عقیدہ پر قائم رہے۔ اور باوجود قرآن کریم کے صاف الفاظ کے آپ نے اپنے عقیدہ کو بدلا نہیں۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ قرآن کریم آپ نے ۱۹۰۱ء میں دیکھا ہے آپ تو قرآن کریم کے عاشق تھے اور اپنی جوانی اس کے مطالعہ میں خرچ کر چکے تھے اور باریک در بار یک مطالب پر آگاہ تھے پھر اس مسئلہ میں آپ کیوں دھوکے میں رہے ؟ اور کیوں صریح الفاظ قرآن کی موجودگی میں عوام کے عقائد کی پیروی کی ؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غلطی اسی طرح ہوئی۔ جس طرح مسیح کی وفات کے متعلق ہوئی مسیح کی وفات بھی تو قرآن کریم میں صاف الفاظ میں مذکور ہے۔ اور سارے قرآن میں ایک لفظ بھی اس کی زندگی پر دلالت نہیں کرتا۔ بلکہ آسمان پر جانے کا صاف انکار کیا گیا ہے پھر یہ کیونکر ہوا کہ وفات مسیح پر تمیں (۳۰) آیات کی موجودگی میں حضرت مسیح موعود عوام کے عقیدہ کے قائل رہے اور اس بات کو معلوم نہ کر سکے کہ قرآن کریم سے مسیح کی وفات ثابت ہے اگر کوئی کہے کہ مسیح کی حیات