انوارالعلوم (جلد 2) — Page 463
انوار العلوم جلد ۲ ۲۶۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) سکیں۔ جب پہلے عقیدہ کے خلاف ایک دوسرا عقیدہ شائع ہو گیا اور اس کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا کہ خدا تعالی قرآن کریم اسلام اور انبیائے سابقین اس کی تائید کرتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں۔ اور اس کے خلاف عقیدہ رکھنے والوں کو نادان تک کہہ دیا۔ تو اب بتاؤ کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہوا یا نہیں۔ کیا یہ اعلان کافی نہ تھا اور کچھ ضرورت باقی رہ گئی تھی۔ داناؤں کے لئے تو جو کچھ حضرت مسیح موعود نے لکھ دیا وہی کافی ہے۔ اور جو کسی بات کو ضد سے نہ سمجھنا چاہیں۔ ان کا علاج خدا تعالی کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس جگہ میں اس بات کا اظہار کر دینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں کہ کسی شخص کو یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ اگر نبی کی تعریف وہی تھی جو قرآن کریم اور لغت سے آپ لکھتے ہیں کہ ثابت ہے۔ اور حضرت مسیح موعود اس کے خلاف تعریف کرنے والوں کو نادان فرماتے ہیں۔ تو حضرت مسیح موعود ایک مدت تک اس عقیدہ کو کیوں مانتے رہے۔ اور کیا خود حضرت مسیح موعود پر اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ شبہ بالکل بے اصل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بات جب تک پوشیدہ اور پردہ اخفاء میں ہو۔ اسے اصل کے خلاف ماننا ایک اور بات ہے۔ لیکن پردہ اٹھ جانے پر پھر بھی غلطی سے نہ ہٹنا ایک اور بات ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود بے شک ایک وقت تک نبی کی وہی تعریف کرتے رہے۔ جو آج کل کے مسلمان کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ اس وقت تک آپ پر اس مسئلہ کا پوری طرح انکشاف نہ ہوا تھا۔ آپ کا احتیاط کا پہلو اختیار کرنا اور عام مسلمانوں کے عقیدہ پر قائم رہنا۔ اور باوجو د بار بار نبی کے خطاب سے یاد کئے جانے کے اس کی تاویل کرنا ایک نہایت مستحسن بات تھی۔ اور انبیاء کے ایمان کا اظہار تھا۔ لیکن جب آپ پر حق کھول دیا گیا اور آپ نے لوگوں کو بتا دیا کہ نبی کی یہ نہیں بلکہ یہ تعریف ہے۔ تو اب اس پرانے عقیدہ پر قائم رہنا ایک نادانی اور جہالت ہے۔ جس پر اظہار ناراضگی کرنا ضروری تھا۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا۔ اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔ اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ مشرک فوت ہوئے۔ گو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے ۔ حتی کہ حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔ حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ مسیح بنا چکا تھا جیسا کہ براہین کے الہامات سے ثابت ہے۔ لیکن آپ کے اس فعل کو مشرکانہ نہیں کہہ سکتے ۔ بلکہ یہ ایک نبیوں کی سی احتیاط تھی۔ لیکن جب تاویل کی کوئی گنجائش نہ رہی، تو آپ نے حق کا اعلان کر دیا۔ اسی طرح نبوت کی