انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 462

انوار العلوم جلد ۲ r ۴۶۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) لایا۔ اور نہ براہ راست نبوت میں نے پائی ہے ۔ تو کیا اس سے صاف ظاہر نہیں ہو تاکہ جن تحریروں میں آپ نے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اس جگہ آپ کی مراد نبوت نہیں۔ بلکہ نبوت کی وہ دو خصوصیات ہیں جن کے پائے جانے کو وہ ان ایام میں ضروری خیال کرتے تھے اس لئے ان کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے اپنی نبوت کا انکار کرتے تھے ۔ پس جبکہ واقعات سے ثابت ہے کہ بات وہی ہے جو میں نے لکھی ہے تو اس قول کا کیا فائدہ؟ کہ آپ نے کوئی اعلان کیوں نہیں کیا۔ جب ایک بات ایک خاص وقت کے بعد ترک کر کے اس کے صریح خلاف کہنا شروع کر دیا تو ہر ایک عقلمند انسان خیال کر سکتا ہے کہ اب پہلا عقیدہ تبدیل ہو گیا۔ اس کی کیا ضرورت ہے کہ یہ بھی کرنے اعلان کیا جائے کہ پہلے جو بات میں نے لکھی تھی غلط تھی۔ جبکہ آپ نے ایک عقیدہ کا اظہار کا والوں کو نادان کہا۔ نبوت کی شرائط میں شریعت کو داخل کرنے سے انکار کر دیا تو خود ہی وہ پہلی تحریر جس میں اس کے خلاف لکھا تھا منسوخ ہو گئی۔ براہین احمدیہ میں آپ نے مسیح کے زندہ ہونے کا اقرار کیا ہے لیکن فتح اسلام میں اس کے خلاف لکھتے ہوئے یہ نہیں لکھا کہ براہین احمدیہ میں میں نے جو کچھ لکھا تھا اسے منسوخ کرتا ہوں۔ ہاں بعض نادانوں نے جب اعتراض کیا۔ تو اس وقت بتا دیا کہ وہ عقیدہ میرا اپنا اجتہاد تھا۔ اب انکشاف نامہ کے بعد لکھتا ہوں۔ اب فرض کرو کوئی شخص براہین احمدیہ کی تحریر یاد دلا کر آپ پر اعتراض نہ کرتا۔ اور آپ اس کا جواب نہ دیتے۔ تو کیا کوئی نادان یہ کہہ سکتا تھا کہ چونکہ اس عقیدہ کے منسوخ کرنے کا اعلان نہیں فرمایا ۔ اس لئے یہی فیصلہ محکم ہے۔ نہ کہ منسوخ - جب آپ نے پہلے عقیدہ کے خلاف یہ لکھ دیا کہ مسیح فوت ہو گیا ہے تو اب ہر ایک شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ پہلا کلام منسوخ ہوا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود پہلے اپنے آپ کو مسیح افضل نہیں قرار دیتے تھے۔ اور آپ نے اپنا یہ مذہب تریاق القلوب میں بھی لکھا ہے۔ پھر دافع البلاء میں اس کے خلاف لکھا ہے کہ میں افضل ہوں۔ کیا پھر اس جگہ یہ لکھا ہے کہ میں پہلا عقیدہ منسوخ کرتا ہوں یا مثلاً کشتی نوح میں اسکے خلاف لکھا ہے کیا وہاں لکھ دیا ہے کہ میں پہلے عقیدہ کو منسوخ کرتا ہوں۔ پھر کیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ پہلا ہوا کہ پہلا عقیدہ منسوخ نہیں ہوا آپ نے تو اس وقت تک پہلے عقیدہ کو منسوخ قرار نہیں دیا ۔ جب تک حقیقۃ الوحی میں آپ پر اعتراض نہیں ہوا۔ تب بے شک آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی بارش کی طرح نازل ہونے والی وحی سے میں نے پہلا عقیدہ بدل دیا۔ لیکن کیا اس سے پہلے بھی کبھی لکھا تھا کہ پہلے میرا فلاں عقیدہ تھا۔ اب اسے منسوخ سمجھو اور اس کی جگہ یہ عقیدہ سمجھ لو۔ انسان کے مخاطب ہمیشہ دانا انسان ہوتے ہیں نہ وہ جو بات کو سمجھ ہی نہ سے ا