انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 29

انوار العلوم جلد ۲ ۲۹ منصب خلافت تعمیر کعبہ کے وقت اس طرح دعا کی تھی جو اب پوری ہونے لگی ہے بار بار يُبَنِي إِسْرَاءِ بَلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمُ (البقرة : (۴) فرما کر یہ بتایا کہ بنی اسرائیل کا حق شکایت کا کوئی نہیں ان یں ان سے وعدہ پورا ہو چکا ہے اور جس خدا نے ان کا وعدہ پورا کیا ضرور تھا کہ بنی اسمعیل کا وعدہ بھی پورا کرتا۔ اور اس طرح پر بنی اسرائیل پر بھی اتمام محبت کیا کہ باوجود انعام الہیہ کے تم نے نافرمانی کی اور مختلف قسم کی بدیوں میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو تم نے محروم کرنے کا مستحق ٹھہرالیا ہے تم میں نبی آئے ، بادشاہ ہوئے اب وہی انعام بنی اسمعیل پر ہوں گے ۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ دعا تو تھی ہم کیونکر مانیں کہ ہ شخص وہی موعود ہے اس کا ثبوت ہونا چاہئے ۔ اس کے لئے فرمایا کہ موعود ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس دعا میں جو باتیں بیان کی گئی تھیں وہ سب اس کے اندر پائی جاتی ہیں اور چونکہ اس نے ان سب وعدوں کو پورا کر دیا ہے اس لئے یہی وہ شخص ہے۔ گو سارا قرآن شریف ان چار ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے لیکن اس سورۃ میں خلاصہ سب باتیں بیان فرمائیں تا معترض پر محبت ہو يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ابْتِكَ كے متعلق إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ اور آخر میں فرمایا لَا يَتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ( البقرۃ: ۱۶۵) اس میں عقل رکھنے والوں کیلئے کافی دلائل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ملائکہ ، کلام الہی اور نبوت کا ثبوت ملتا ہے یہ تو نمونہ دیا تلاوت آیات کا ۔ اس کے بعد تھا يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ اس کے لئے مختصر طور پر شریعت اسلام کے موٹے موٹے احکام بیان فرمائے اور ان میں بار بار فرمایا كُتِبَ عَلَيْكُمْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ جس سے یہ بتایا کہ دیکھو اس پر کیسی بے عیب شریعت نازل ہوئی ہے۔ پس یہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ابْتِكَ کا بھی مصداق ہے اور يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ کا بھی۔ تیسرا کام بتایا تھا کہ لوگوں کو حکمت سکھائے اس لئے شریعت کے موٹے موٹے حکم بیان فرمانے کے بعد قومی ترقی کے راز اور شرائع کی اغراض کا ذکر فرمایا۔ اور حضرت ابراہیم اور طالوت کے واقعات سے بتایا کہ اس طرح قو میں ترقی کرتی ہیں اور کس طرح مردہ تو میں زندہ کی جاتی ہیں ۔ پس تم کو بھی ان راہوں کو اختیار کرنا چاہئے ۔ اور اس حصہ میں وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ( البقرۃ: ۲۷۰) فرما کر یہ اشارہ فرما دیا کہ لو تیسر ا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔ اس رسول نے حکمت کی باتیں بھی سکھا دی ہیں ۔ مثلاً طالوت کا واقعہ بیان فرمایا کہ انہوں نے حکم دیا کہ نہر سے کوئی پانی نہ پیئے اور پینے والے کو ایسی سزادی کہ اسے اپنے سے علیحدہ کر دیا اور بتایا کہ جب کوئی شخص چھوٹا حکم نہیں مان سکتا تو اس نے بڑے بڑے حکم کہاں مانتے ہیں ۔ اور یہ بھی بتایا ابتایا کہ جس وقت جنگ ہو XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX