انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 457

۴۵۷ ایک گروہ اٹھتا ہے اور اس نادانی کا مرتکب ہوتا ہے جس کا الزام حضرت مسیح موعودؑ اپنے دشمنوں کو دیتے رہے کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کیایہ حسرت کی بات نہیں کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ طبیب خود بیمار ہو گیا۔اور تیراک خود ڈوب گیا اور بدرقہ خود بھول گیاوہ جماعت جس کا فرض تھا کہ لوگوں کو جہالت سے نکالے اور وہ جماعت جس کا فرض تھا کہ مسیح موعودؑ کے لائے ہوئے نور سے دنیا کی ظلمت کو دور کرے اس کا ایک گروہ خود اسی جہالت میں جاگرتا ہے جس سے نکالنے کا کام مسیح موعودؑ نے اس کے سپرد کیا تھا اور آپ اس ظلمت میں اپنا گھر بنالیتا ہے جس کے دور کرنے کے لئے مسیح مدعو دنے اسے مقرر کیا تھا۔آه! جہالت اور نادانی کے لئے کیسی خوشی کادن ہے اور علم و حقیقت کے لئے کیسے افسوس کی گھڑی ہے کہ پولیس مین چوروں میں جا ملا اور فوج کا سپاہی باغیوں کے ساتھ شامل ہو گیا کسی نے کیا سچ کہا ہے کہ : مژده باراے مرگ عیسیٰ آپ ہی بیمارہے وہ مسیح کی جماعت جو شیطان کے آخری حملہ کو توڑنے پر مقرر کی گئی تھی اس میں سے ایک جماعت جاده اعتدال کو چھوڑ کر غلط عقائد کو دوبارہ اختیار کرتی ہے لیکن نہیں ایسا نہیں ہو سکتا جماعت کا اکثر حصہ حق کو سمجھ چکا ہے اور جو لوگ کہ اس وقت تک اپنے مرکز سے علیحدہ ہیں وہ بھی کسی ضد اور ہٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط فہمی کی وجہ سے اور ناواقفیت کے سبب سے۔ان میں سے بہتوں کے دل مسیح موعودؑ کی محبت سے پُر ہیں اور قریب ہے کہ خدا کی رحمت ان کی آنکھیں کھول ہے اور وہ دیکھ لیں کہ جس راستے پر وہ چل رہے ہیں وہ اس راستہ کے خلاف ہے جس پر مسیح موعود ؑنے ان کو چلایا تھا اور جس جگہ کو یہ امن و امان کی جگہ خیال کر رہے ہیں وہ وہی تاریک گڑھا ہے جس سے لوگوں کو نکالنے کے لئے مسیح موعودؑ کوشش کرتا رہا۔کیادنیاکے یکتا موتی اور فروجو ہر او رلاثانی ہادی محمدﷺ کی دعائیں ضائع جائیں گی ؟ کیا اس زمانہ کے امام اور اپنے استاد کے تمام کمالات کے اخذ کرنے والے مسیح موعود ؑکی آہ و زاریاں رائیگاں جائیں گی؟ نہیں یہ نہیں ہو سکتا ضرور ہے کہ جلد یا بدیر بھولے ہوئے واپس آئیں اور گم شدہ گھر کوپالیں۔خدائے تعالیٰ بڑار حمٰن ہے بڑا رحیم ہے بڑا کریم ہے پھر میں کس طرح مان لوں کہ وہ اس جماعت کو جو اس نے مسیح موعودؑکے ہاتھوں سے قائم کروائی ہے پر آئندہ ہونے دے او راس کشتی کو جسے اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے بنوایا ہے سمندر کی لہروں اور سنگین چٹانوں سے ٹکرا کرا کر ٹوٹنے دے۔یہ جدائی عارضی ہے اور یہ علیحدگی وقتی ہے ورنہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ لوگ جنہوں نے مسیح موعودؑ کے ہاتھ پر