انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 452

انوار العلوم جلد ۲ ۴۵۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) آپ دونوں باتوں کو مطابق کرنے کے لئے یہ تاویل کرتے کہ میں ہوں تو محدث۔ لیکن کثرت مکالمہ کی وجہ سے مجھے باوجود اس کے کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا نبی کہہ دیا جاتا ہے لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ جس درجہ پر پر کھڑے ہوئے ہیں وہ جزو نبوت نہیں بلکہ عین نبوت ہے اس وقت کے بعد آپ صرف یہ بتاتے تھے کہ میری نبوت فلاں قسم کی ہے اور یہ کبھی نہ کہتے تھے کہ میں نبی نہیں ہوں صرف ایک جزو نبوت کے پائے جانے سے میرا نام نبی رکھ دیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ تعریفوں کا اختلاف ہی تھا کہ ایک وقت تو آپ اپنے آپ کو مسیح پر جزئی فضیلت رکھنے والا بتاتے رہے کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ وہ نبی ہے اور میں نبی نہیں اور غیر نبی نبی پر کلی فضیلت نہیں پا سکتا لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ نبی ہی ہیں اور نبی کی تعریف آپ پر صادق آتی ہے تو اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دے دیا۔ اسی طرح یہ بھی تعریفوں کا اختلاف ہی تھا جس کے سبب سے ایک وقت تو اپنے آپ کو نبی کہنے سے جماعت کو روکتے رہے اور دوسرے وقت میں خود اپنے آپ کو نبی اور رسول کر کے لکھنے لگے یہاں تک کہ جب ایک شخص نے آپ کے دعوائے رسالت و نبوت سے انکار کیا تو اس کو ڈانٹ دیا۔ پھر اسی طرح یہ بھی تعریفوں کے اختلاف کے ہی سبب سے ہوا کہ ایک وقت تو آپ نے اشتہار دیا کہ نبی سے میری مراد صرف محدث ہے اور لوگوں کو چاہئے کہ نبی کا لفظ کاٹ کر اس کی جگہ محدث رکھ لیں لیکن اس کے بعد اس کے خلاف یہ اعلان فرمایا کہ : اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے"۔ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹) 1901ء سے پہلے تو کہتے ہیں کہ نبی سے مراد صرف محدث ہے اور ۱۹۰۱ء کو اعلان کرتے ہیں کہ وہ تو نبی ہی کہلا سکتا ہے محدث تو وہ ہو نہیں سکتا کیونکہ محدث کے معنی اظہار غیب کرنے کے نہیں ہیں اور یہ اختلاف اسی وجہ سے ہوا کہ آپ پہلے تو نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور چونکہ اپنے آپ کو نبی نہیں سمجھتے تھے اس لئے آپ کا خیال تھا کہ نبی سے نیچے اتر