انوارالعلوم (جلد 2) — Page 451
انوار العلوم جلد ۲ ۴۵۱ الهی نبوت رکھتا ہوں“ ۔ (تمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۵۰۳) حقيقة النبوة (حصہ اول) پس جب اللہ تعالی نے آپ کو خود بتلایا کہ نبوت شریعت لانے یا بلا بلا واسطہ واسطہ نبی ہونے کا نام نہیں بلکہ امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانے کا نام ہے اور ایسے ہی شخص کا نام اللہ تعالی جب نبی رکھتا ہے تو وہ نبی ہوتا ہے نہ محدث - ث تو آپ نے اپنے پہلے خیال کو ترک کر دیا۔ اور ۱۹۰۱ء کے بعد پھر کبھی نہیں لکھا کہ میں نبی نہیں ہوں۔ ہاں جب اپنے آپ کو نبی کہا تو یہ بھی لکھتے رہے کہ میں فلاں قسم کا نبی نہیں بلکہ فلاں قسم کا نبی ہوں۔ میں اس جگہ ایک اور حوالہ بھی دے دیتا ہوں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بر خلاف اس عقیدہ کے جو حضرت مسیح موعود نے ۱۸۹۹ء میں نبی کے متعلق ظاہر فرمایا۔ ۱۹۰۱ء کے بعد آپ کا یہی مذہب تھا کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا کوئی شرط نہیں اور نہ یہ کہ کسی اور نبی کا متبع نہ ہو چنانچہ آپ فرماتے ہیں : نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ ومی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ اللہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا (براہین احمدیہ حصہ پنجم - سن روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۶) - مذکورہ بالا حوالہ جات سے بالکل بین ہو جاتا ہے کہ 1901ء سے پہلے آپ نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور ۱۹۰۱ء اور اس کے بعد اور تعریف کرتے رہے اور یہ تغیر اپنی رائے اور قیاس سے نہ تھا بلکہ اللہ تعالی کے حکم سے تھا اور قرآن کریم کی تصریحات کے مطابق تھا پس جب تک کہ آپ نبی کی یہ تعریف کرتے رہے کہ اس کے لئے شریعت جدیدہ لانا یا بلا واسطہ نبوت پانا ضروری ہے آپ اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے رہے اور جب یہ معلوم ہوا کہ یہ باتیں شرائط نبوت سے نہیں ہیں اور جو شرائط نبوت ہیں وہ سب آپ میں پائی جاتی ہیں تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اقرار کیا۔ اور یہ تعریفوں کا اختلاف ہی تھا جس کی وجہ سے ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص قرار دیتے رہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک طرف تو آپ کو جو درجہ دیا گیا تھا اسے آپ نبوت نہ سمجھتے تھے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ آپ کو نبی قرار دیتا تھا اس لئے