انوارالعلوم (جلد 2) — Page 447
۴۴۷۔میں آپ لکھتے ہیں کہ میں پہلے تو مسیح سے اپنے آپ کو ادنیٰ خیال کرتا رہا کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ نبی ہے اور میں غیرنبی۔لیکن بعد میں جب بار بار مجھ پر وحی نازل ہوئی اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا تو مجھے اپنا عقیدہ بدلناپڑا۔اب یہ بات تو ظاہر ہے کہ نبی کے نام سے تو حضرت مسیح موعود کو براہین کے زمانہ سے یاد کیا جاتا تھا۔پس صریح طور سے نبی کا خطاب دیا گیا کہ یہ معنی تو ہو نہیں سکتے کہ آپ کو پہلے نبی کا خطاب نہ دیا گیا تھا۔بعد میں دیا گیا اس لئے فضیلت کا عقیدہ بدل دیا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے بھی نبی کے نام سے آپ کو پکارا تو جاتا تھا لیکن آپ اس کی تاویل کرتے رہتے تھے لیکن جب بار بار الہامات میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول کے نام سے پکارا تو آپ کو معلوم ہوا کہ آپ واقعہ میں نبی ہی ہیں غیرنبی نہیں۔جیسا کہ پہلے سمجھتے تھے اور نبی کا لفظ جو آپ کے الہامات میں آتا ہے صریح ہے قابل تاویل نہیں۔پس اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کونبی کا خطاب نیا دیا گیا بلکہ یہ مطلب ہے کہ بار بار کی وحی نے آپ کی توجہ کو اس طرف پھیر دیا کہ تیئس سال سے جو مجھے کونبی کہا جا رہا ہے تو یہ محدث کا دوسرا نام نہیں بلکہ اس سے نبی ہی مراد ہے اور یہ زمانہ تریاق القلوب کے بعد کا زمانہ تھا اور اس عقیدہ کے بدلنے کا پہلا ثبوت اشتہار ’’ایک غلطی کا ازالہ\" سے معلوم ہوتا ہے جو پہلا تحریری ثبوت ہے ورنہ مولوی عبدالکریم صاحب کے خطبات جمعہ سے معلوم ہوتاہے کہ ۱۹۰۰ء سے اس خیال کا اظہار شروع ہو گیا تھا تو پورے زور اور پوری صفائی سے نہ تھا چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت مسیح موعود کو مرسل الہٰی ثابت کیا اور لَا نفرق بين أحدمنهم والی آیت کو آپ پر چسپاں کیا اور حضرت مسیح موعود ؑنے اس خطبہ کو پسند بھی فرمایا ہے اور یہ خطبہ اس سال کے الحکم میں چھپ چکا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پورا فیصلہ اس عقیدہ کا ۱۹۰۱ء میں ہی ہواہے۔خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود چو نکہ ابتداًء نبی کی تعریف یہ خیال فرماتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو اس لئے باوجود اس کے کہ وہ سب شرائط جو نبی کے لئے واقع میں ضروری ہیں آپ میں پائی جاتی تھیں آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعوی ٰکرتے رہے جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور