انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 445

۲۴۵۔برزخ کے طور پر حد فاصل ہے پس ایک طرف آپ کی کتابوں سے اس امر کے ثابت ہونے سے کہ۱۹۰۱ء سے آپ نے نبی کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے اور دوسری طرف حقيقة الوحی سے یہ ثابت ہونے سے کہ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوت کے متعلق عقیدہ میں تبدیلی کی ہے یہ بات ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔اب ایک اعتراض رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب یہ ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ شروع دعوی سے اپنے اندر نبیوں کی سب شرائط کے پائے جانے کے مدعی تھے تو پھر آپؑ کیوں اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے تھے اور اگر پہلے آپ انکار کرتے تھے تو بعد میں اسی دعوے کی بناء پر پھر وعوائے نبوت کیوں کیا؟ اگر یہ ثابت ہو جا تاکہ آپ نے اپنے دعوے میں بھی کوئی تبدیلی کرلی تھی تب تو یہ مانا جا سکتا تھا کہ پہلے آپ کادعویٰ وہ تھا جو غیر نبیوں کا ہو تا ہے اور بعد میں آپ نے وہ دعویٰ کیا جو نبیوں کا ہوتا ہے اسلئے نبی ہونے کا بھی اعلان کر دیا لیکن جبکہ کام اور درجہ ایک رہا تو پھرنام کے تبدیل کرنے کی کیا وجہ تھی۔اگر اس دعوی ٰکے ہوتے ہوئے آپ ۱۹۰۱ء سے پہلے نبی تھے تو بعد میں بھی تھے اور اگر ۱۹۰۱ء سے پہلے اس دعوے کی موجودگی میں آپ نبی نہ تھے تو ۱۹۰۱ء کے بعد کونسی بات پیدا ہوگئی تھی کہ آپ اس کی وجہ سے نبی ہو گئے۔اور پھر یہ بھی اعتراض پڑتا ہے کہ جب شروع دعوی ٰسے آپ میں نہ ہونے کی کل شرائط پائی جاتی تھیں تو کیوں آپ نبی ہونے سے انکار کرتے رہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ اختلاف ایک نہایت چھوٹی سی بات سے پیدا ہوا ہے اور بہت سی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں کہ ان کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔اس تمام اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود دو مختلف اوقات میں نبی کی دو مختلف تعریفیں کرتے رہے ہیں- ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور بعد میں آپ نے جب اللہ تعالیٰ کی متواتروحی پر غور فرمایا اور قرآن کریم کو دیکھا تو اس سے نبی کی تعریف اور معلوم ہوئی چونکہ جو تعریف نبی کی آپ پہلے خیال فرماتے تھے اس کے مطابق آپ نبی نہ بنتے تھے اس لئے باوجود اس کے کہ سب شرائط نبوت آپ میں پائی جاتی تھیں آپ اپنے آپ کو نبی کہنے سے پرہیز کرتے تھے اور اپنے الہامات میں جب نبی کا نام دیکھتے اس کی تاویل کر لیتے اور حقیقت سے ان کو پھیردیتے کیونکہ آپ جب اپنے نفس پر غور فرماتے تو اپنے اندر وہ باتیں نہ دیکھتے تھے جن کا انبیاء میں پایا جانا آپ ضروری خیال فرماتے تھے