انوارالعلوم (جلد 2) — Page 441
میں یہ تینوں باتیں پائی جائیں۔اور اس سے زائد کوئی اور شرط نہیں بتائی۔پس جس میں یہ شرائط پائی جاویں اس کے نبی ہونے کا انکار کرنے والا لغت بھی چھوڑتا ہے۔اور جو لغت کو چھوڑتاہے۔اس سے بحث کرنا ہی فضول ہے۔کیونکہ ممکن ہے وہ کل کو کہہ دے کہ کتاب فرشتوں کو اور فرشتہ رسول کو کہتے ہیں۔اوراختر کھائے جانے سے کہہ دے کہ میں لغت کا اعتبار نہیں کرتا۔اب میں جناب مولوی صاحب کے کل نقل کردہ حوالہ جات کا جواب ایک ہی جواب میں دے چکا ہوں یعنی ہے کہ نبی قرآن کریم کی اصطلاح اور پہلے نبیوں کی نبوت اورلفت عرب کے مطابق اس شخص کو کہتے ہیں۔جس میں یہ تین باتیں پائی جائیں۔۱۔کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائے۔۲-اسے جو خبریں غیب کی بتائی جائیں وه امور مہمہ پر مشتمل ہوں اور منکروں کی تباہیوں اور ماننے والوں کی ترقیوں کی اطلاع ان میں دی جائے۔٣-خدائے تعالیٰ نے اس کانام نبی رکھاہو۔اور جو حوالے جناب مولوی صاحب نے دیئے ہیں۔ان میں سے ایک میں بھی میں یہ لکھا نہیں پا تاکہ ان تین باتوں میں سے فلاں بات مجھ میں نہیں ہے۔اور نہ ان کے سوا حضرت مسیح موعودؑ کی کسی اور تحریر میں۔بلکہ ان سب میں یہ بات لکھی ہے کہ یہ باتیں مجھ میں موجود ہیں۔پس جب ان حوالہ جات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ اپنے آپ کو ان تین شرائط کا پورا کرنے والا بتاتے ہیں۔تو پھر آپ کے نبی ہونے میں کیا شک ہے۔اگر حضرت صاحب کی نبوت کے خلاف ثبوت دینا ہوتو ہم کو وہ حوالہ جات دکھائیں جن میں ان تین امور میں سے کسی امر کا انکار کیا گیا ہو۔لیکن ہمارےسامنے تو ایسے حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں جن میں حضرت مسیح موعودؑ ان تین شرائط کا اقرارکرتے ہیں۔ہاں کسی جگہ یہ لکھتے ہیں کہ وحی شریعت بند ہو گئی۔کی جگہ لکھتے ہیں کہ کوئی شریعت جدید لانے والا نبی نہیں آ سکتا۔کسی جگہ لکھتے ہیں کہ بلا واسطہ نبوت پانے والا نبی آنا اب ناممکن ہے۔اور ان باتوں کو تو ہم مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کوئی جد ید شریعت نہیں لائے اور یہ کہ آپ کی نبوت فیض محمدیؐ سے تھی۔پس ان حوالوں کے پیش کرنے سے کیا فائدہ؟ وہ تو ہمارے خیالات کی تائید کرتے ہیں۔ہمارے خلاف توہی حوالہ جات پیش کئے جاسکتے ہیں۔جن میں حضرت مسیح موعود ؑنے اپنے اندر شرائط نبوت پورا ہونے سے انکار کیا ہو۔جو باتیں ہر ایک نبی میں پائی جانی نہ قرآن کریم کے مطابق نہ لغت کے مطابق نہ حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریرات کے