انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 27

۲۷ تعلیم دے۔یعنی جب وہ اعمالِ ظاہری بجا لانے لگیں تو پھر ان اعمال کی حقیقت اور حکمت سے انہیں باخبر کرے جیسے ایک شخص ظاہری طور پر نماز پڑھتا ہے۔نماز پڑھنے کی ہدایت اور تعلیم دینا یہ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ کے نیچے ہے۔اور نماز کیوں فرض کی گئی، اِس کے کیا اغراض و مقاصد ہیں؟ اِس کی حقیقت سے واقف کرنا یہ تعلیم الحکمۃ ہے۔ان دونوں باتوں کی مثال خود قرآن شریف سے ہی دیتا ہوں۔قرآن شریف میں حکم ہے اقیموا الصلوة۴نمازیں پڑھو، یہ حکم تو گویا یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ کے ماتحت ہے۔ایک جگہ یہ فرماتا ہے اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ ۵؎ یعنی نماز بدیوں اور ناپسند باتوں سے روکتی ہے۔یہ نماز کی حکمت بیان فرمائی کہ نماز کی غرض کیا ہے۔اسی طرح پھر رکوع، سجود، قیام اور قعدہ کی حکمت بتائی جائے اور خدا کے فضل سے میں یہ سب بتا سکتا ہوں۔غرض تیسرا کام نبی یا اس کے خلیفہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ احکامِ شریعت کی حکمت سے لوگوں کو واقف کرتا ہے۔غرض ایمان کے لئےیتلوا علیھم ایاتہفرمایا۔پھر ایمان کے بعد اعمال کے لیے یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ پھر ان اعمال میں ایک جوش اور ذوق پیدا کرنے اور ان کی حقیقت بتانے کے واسطے والحکمة فرمایا، نماز کے متعلق میں نے ایک مثال دی ہے ورنہ تمام احکام میں اللہ تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں۔چوتھا کامپھر چوتھا کام فرمایا ویزکیھم حکمت کی تعلیم کے بعد انہیں پاک کرے۔تزکیہ کا کام انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے قبضہ اور اختیارمیں ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو نبی کو کیوں کہا کہ وہ پاک کرے؟ اس کی تفصیل میں آگے بیان کروں گا مختصر طور پر میںیہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ ہی بتا دیا ہے کہ پاک کرنے کا کیا طریق ہے اور وہ ذریعہ دعا ہے، پس نبی کو جو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو پاک کرے تو اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرے۔اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی حکمتیں مخفی رکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت سورہ بقرہ کی ترتیب کا پتہ دیتی ہے لوگوں کو سورہ بقرہ کی ترتیب میں بڑی بڑی دقتیں پیش آئی ہیں لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کہیں کچھ ذکر ہے کہیں کچھ۔کہیں بنی اسرائیل کا ذکر آ جاتا ہے کہیں نماز روزہ کا، کہیں طلاق کا،کہیں ابراہیم علیہ السلام کے مباحثات کا، کہیں طالوت کا، ان تمام