انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 440

انوار العلوم جلد ۲ ۴۳۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) سے زیادہ مستند کتاب تاج العروس العروس کے حوالہ سے اور قرآن کے اور قرآن کریم کی شہادت سے اور اور پہلے انبیاء کی نظیر سے اور حضرت مسیح موعود کی اپنی تحریرات سے وہی اصل ثابت ہے اس کے خلاف نہیں۔ پس تم کبھی فروعات کی بحث میں نہ پڑو بلکہ اس اصل کو مضبوط پکڑ کر معترضین کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جاؤ ۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ کر خدمت سلسلہ میں لگے رہو پھر کوئی دشمن تمہارا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ تم ان سے یہ دریافت کرو کہ نبوت کی مفصل کیفیت میں جو حضرت مسیح موعود نے اپنی مختلف کتب میں بیان کی ہے کہاں اور کن شرائط نبوت سے انکار کیا ہے ۔ اگر وہ تم کو کہیں کہ حضرت مسیح موعود تو لکھتے ہیں کہ آپ صرف لغوی نبی ہیں۔ تو ان سے کہو کہ ذر الغت ۵۴ کھول کر دیکھو ۔ نبی اللہ کی تعریف اس میں کیا لکھی ہے ؟ لغت کی تعریف تو یہی ہے کہ نبی وہ ہے جو کثرت کے ساتھ اور غیب کے اہم امور کی خبریں دے ۔ اور اس کا نام اللہ تعالیٰ نے نبی رکھا ہو۔ اور قرآن کریم بھی ہیں تعریف فرماتا ہے۔ پس لغت کے مطابق نبی ہونے کے یہ معنی نہیں کہ آپ نبی نہیں۔ بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ کیونکہ لغت میں انبیاء کے لئے جو شرائط آتی ہیں وہی شرائط قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ اور انہیں شرائط کی رو سے پہلے انبیاء نبی ہوا کرتے تھے اور وہی تعریف حضرت مسیح موعود بیان فرماتے ہیں۔ پس اگر لغت کوئی اور تعریف کرتی تو بیشک شک کا مقام تھا لیکن لغت تو وہی تعریف نبی کی کرتی ہے جو قرآن کریم میں مذکور ہے اور جس کی رو سے پہلے انبیاء نبی تھے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود قرآن کریم کے معنوں کے رو سے بھی نبی ہیں۔ اور لغت کے معنوں کے رو سے بھی نبی ہیں۔ اور کیا نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ لغت کے خلاف کسی اور معنوں کے رو سے نبی ہو۔ نہیں ایسا نہیں۔ فیصلوں کی اصل حکم تو لغت ہے۔ اور اس کے بعد اصطلاحات خاص۔ پس جبکہ لغت میں نبی کے معنی اور قرآن کی اصطلاح ایک ہی ہیں تو اب کسی کا کیا حق ہے کہ اپنی طرف سے نئی شرائط تجویز کرے۔ غرض کہ جو تین شرائط میں نے ابتداء میں نبی کے لئے بتائی ہیں وہی شرائط ایسی ہیں کہ جس میں ہوں وہ نبی ہوگا۔ اور جس میں وہ تینوں یا ان میں سے ایک نہ ہو وہ نبی نہیں کہلا سکتا۔ اور جس میں وہ تین شرائط پائی جائیں اور کوئی شخص اس کے نبی ہونے سے انکار کرے۔ تو وہ شخص قرآن کریم کی ہتک کرنے والا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے ان شرائط سے زیادہ اور کوئی شرط مقرر نہیں فرمائی۔ اسی طرح وہ پہلے نبیوں کی نبوت سے انکار کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ اگر ان شرائط کو تسلیم نہ کیا جائے تو بہت سے نبیوں کی نبوت کے انکار کرنا پڑے گا۔ اور ایسے شخص کو لغت سے بھی انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ لغت میں نبی اسی انسان کا نام بتایا ہے جس