انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 439

۴۳۹ ۱۱: میں اس کی تشریح میں مبشرات کے ساتھ مندرات بھی لگادیا ہے۔پس مبشرات کالفظ ثابت کر تاہے کہ منذ رات بھی ہوں گی کیونکہ کسی مامور کی قوم کی ترقی کی خبر اپنے اندر یہ خبر بھی رکھتی ہے کہ اس کے مخالف ہلاک ہوں گے اور سب ماموروں کی خواہ وہ نبی ہوں یا غیرنبی مخالفت ضرور ہوتی ہے۔پس مبشرات کے لفظ سے منذرات خود نکل آتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود نے بھی یہ استنباط کیا ہے اور پھر مبشرات کے لفظ سے امور غیبیہ کی اطلاع بھی نکل آتی ہے کیو نکہ مبشرات ہمیشہ آئندہ کی خبروں کو کہتے ہیں۔ورنہ اگر کسی امیر کو کوئی شخص جاکر کہے کہ تم امیر ہو تو یہ کوئی بشارت نہیں وہ اسے پہلے ہی جانتا ہے بشارت کہتے ہی اس خوش خبرکو ہیں جسے انسان پہلے نہ جانتا ہو اور نبوت کی مبشرات ہمیشہ آئندہ واقعات کے متعلق ہوتی ہیں۔پس مبشرات میں ایک طرف تو تبشیر و انذار کی شرط ثابت ہے۔دوم اظہار على الغیب کی شرط بھی ثابت ہے باقی رہی تیسری شرط تووہ صاف الفاظ میں موجو د ہے آنحضرت ﷺفرماتے ہیں لم يبق من النبوةالا المبشرات یعنی نبوت ہے صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔نبوت تو ہے لیکن بعض اقسام کی نبوت آئندہ کے لئے بند کی گئی ہے۔اور صرف نبوت میں سے وہ نبوت باقی ہے جو بلا خصوصیت شریعت جدیدہ ہوتی ہے۔پس اے دوستو! یہ حدیث تمہارے موافق ہے نہ مخالف۔اور حضرت صاحب نے اپنی کل کتب میں اپنے دعوے کی کیفیت کی جو تفصیل بتائی ہے وہ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے اور وہی مفصل کیفیت آپ اپنے دعوے کی بتاتے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم و محاوره انبیائے گذشتہ لغت عرب اور خود اپنی بیان کردہ تعریف کے روسے آپ نبی تھے۔پس اے عزیز وا!جن کے دل میں مسیح موعود کی سچی محبت ہے اور جو اس کے حقیقی دعوے کو دنیا میں ثابت شدہ دیکھنا چاہتے ہو۔اور اس کے کمالات کے چہرہ پر پردہ پڑاہؤادیکھنا پسند نہیں کرتے۔یاد رکھو کہ مسیح موعود ؑنے اپنے دعوے کی جو مفصل کیفیت بیان فرمائی ہے وہ ہمیشہ آپ کی نبوت پر گواہ رہی ہے اور اس میں کبھی بھی نبوت کےخلاف کوئی امر نہیں اور کوئی ایسی بات اس میں بیان نہیں جس کے ہونے سے انسان نبی نہ بن سکے یا نبی نہ کہلائے اور نہ آپ نے کبھی کسی شرط نبوت سے انکار کیا ہے جس کی کمی سے آپ کے نبی ہونے میں شک پیدا ہو جائے۔پس حضرت مسیح موعود کی تحریرات کو پڑھتے ہوئے اس اصل کو یا د رکھو جو میں نے ابتداء میں تمہارے سامنے پیش کیا ہے کہ نبی کی صرف تین ہی شرائط ہیں اس سے زیادہ نہیں اور باقی سب باتیں خصوصیات کے طور پر ہیں جن میں سے اگر بعض نہ پائی جائیں تو نبی نبی ہی رہتا ہے اس کی نبوت میں فرق نہیں آتا۔اور یہ میرا دعویٰ اپنا نہیں بلکہ لغت عرب کی سب