انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 438

انوار العلوم جلد ۲ ۲۳۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) رہی تو اسے کہہ دو کہ ہم آنحضرت ا کے بعد شریعت جدیدہ کے لانے کے مدعی کو لعنتی خیال کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آسکتی۔ اور اگر کوئی ایسا حوالہ دکھائے جس میں یہ لکھا ہو کہ میں نے براہ راست نبوت نہیں پائی۔ تب فورا کہہ دو کہ ہم ایسے شخص کو جو آنحضرت ا کے بعد براہ راست نبوت پانے کا دعوی کرے جھوٹا اور فریبی خیال کرتے ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ا کے مبعوث ہونے کے بعد براہ راست نبوت ملنے کی کوئی ضرورت نہیں اور جو کچھ مل سکتا ہے آپ ہی کے واسطہ سے اور طفیل سے مل سکتا ہے۔ پھر اگر وہ کوئی ایسا حوالہ دکھائے کہ جس میں حضرت صاحب نے لکھا ہو کہ میرا تو صرف یہ دعوی ہے کہ میں کثرت سے غیب کی خبروں پر اطلاع پاتا ہوں اور بڑے بڑے اہم معاملات جو دنیا کی تباہی یا ترقی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان کی خبر پا تا ہوں۔ اور خدا تعالٰی نے انہی معنوں میں مجھے نبی کہا ہے ۔ تو تم جواب دو کہ ہم اس سے زیادہ آپ کو کچھ نہیں مانتے اور اسی دعوے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کو نبی کہتے ہیں اور کہنے پر مجبور ہیں ۔ کیونکہ لغت عرب میں نبی اللہ کی یہی تعریف ہے۔ اور قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے اور پچھلے انبیاء اور خود حضرت مسیح موعود کا بھی اس پر اتفاق ہے جبکہ تم خود تسلیم کرتے ہو کہ حضرت مسیح موعود نے ان تین باتوں کا دعوی کیا ہے تو اس کا نام نبوت ہے۔ اس سے زیادہ کسی چیز کا نام نبوت نہیں۔ باقی جو کچھ ہے خصوصیات ہیں جو بعض نبیوں کو چھوڑ کر بعض میں پائی جاسکتی ہیں اور ان خصوصیات میں سے حضرت مسیح موعود نے دو خصوصیات کا اپنی نسبت انکار کیا ہے یعنی تشریعی نبی ہونے کا۔ اور براہ راست نبوت پانے کا۔ اور ہم بھی اقرار کرتے ہیں کہ آپ کی نبوت ایسی نبوت نہ تھی۔ اور اگر کوئی شخص تم سے کہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ تو جواب دو کہ آپ نے جو کچھ فرمایا ہے۔ اس سے ایک انچ ادھر ادھر ہونا کفر ہے۔ یہ حدیث تو ہماری تائید کرتی ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ نبوت میں سے مبشرات والی نبوت باقی ہے یعنی گوایسی نبوت اب نہیں آسکتی جس میں نئی شریعت ہو۔ لیکن یہ نہ خیال کرنا کہ نبی بھی کوئی نہیں آسکتا۔ کیونكَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِينَ کے ماتحت مبشرات جاری رہیں گی۔ اگر کوئی کہے کہ اس حدیث سے وہ تینوں شرائط کس طرح نکلتی ہیں تو اسے جواب دو کہ مبشرات سے تو تو مُبَشِّرِينَ وَ مُنْذِرِینَ کی آیت کی طرف اشارہ ہے۔ اور بشارت کے ساتھ انذار ضروری ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو لکھ کر حضرت مسیح موعود نے توضیح مرام