انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 436

انوار العلوم جلد ۲ ۲۳۶ حقيقة النبوة (حصہ اول) اس لئے کہا جاتا ہے کہ (1) ان کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی تھی (۲) وہ غیب کی خبریں جو ان پر ظاہر ہوتی تھیں معمولی نہ ہوتی تھیں بلکہ وہ عظیم الشان خوشخبریوں اور خطرناک عذابوں کی خبریں تھیں (۳) خدا نے ان کو نبی کے نام سے پکارا ہے میں اور صرف یہی تین باتیں ہیں۔ جن کے پائے جانے سے پہلے سب انبیاء نبی کہلائے جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود نے لکھ دیا ہے کہ پہلے نبی بھی اسی وجہ سے نبی کہلائے (جو حوالہ کہ حضرت مسیح موعود کے اپنے الفاظ میں پہلے گزر چکا ہے) پس اگر حضرت مسیح موعود کی کتب میں ان تینوں باتوں کا دعوی ہے۔ تو وہ نبی ہیں اور اگر ان تین باتوں کا دعوی نہیں تو پھر وہ نبی نہیں ہیں مگر میں نے بتایا ہے۔ اور وہ حوالے جو جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنی تائید میں پیش کئے ہیں ان حوالوں کے علاوہ جس قدر حوالہ جات ان کے عقیدہ کی تائید میں پیش کئے جاتے ہیں یا کئے جاسکتے ہیں۔ درج کر دیتے ہیں۔ ان کو ایک ایک کر کے پڑھو۔ پھر حضرت مسیح موعود کی وہ تمام کتب جو دعوائے مسیحیت سے بعد کی ہیں۔ ان کو پڑھو۔ ان سب میں یہ تینوں دعوے موجود پاؤ گے ۔ یا ان کے خلاف کوئی بات نہ دیکھو گے۔ حضرت مسیح موعود نے کہیں یہ بات نہیں لکھی کہ مجھ پر خدا تعالیٰ کثرت سے امور غیبیہ نہیں ظاہر کرتا۔ اور نہ یہ کہیں لکھا ہے کہ میرے الہامات میں عظیم الشان انقلابات کی خبریں نہیں۔ جو تمام دنیا کے متعلق ہوں بلکہ یہی فرمایا ہے کہ یہ دونوں باتیں میرے الہامات میں ہیں۔ اور کثرت کے ساتھ ہیں اور کبھی کہیں نہیں لکھا کہ میرے کسی الہام میں میرا نام نبی نہیں رکھا گیا بلکہ جب فرمایا میں فرمایا کہ خدا تعالٰی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ پس جبکہ فتح اسلام کے زمانہ سے لے کر وفات تک کی سب کتب میں یہ تینوں دعوے موجود ہیں یا یہ کہ کسی کتاب میں ان کے خلاف نہیں لکھا۔ تو بتاؤ کہ آپ نبی کیوں نہ ہوئے ؟ جیسا کہ میں پہلے تمہید میں بتا آیا ہوں۔ لغت عرب قرآن کریم ، اصطلاح باری تعالیٰ عقائد جمیع انبیاء اور حضرت مسیح موعود کے مذہب کے رو سے تو نبی کہتے ہیں اس کو ہیں جو ان تینوں شرائط کو پورا کرے۔ اور حضرت مسیح موعود ان تینوں شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ پس آپ نبی ہیں۔ ہاں یہ سوال رہ جاتا ہے کہ نبیوں کی کسی قسم میں داخل ہیں۔ سو آپ غیر تشر ملعی امتی نبی ہیں۔ یعنی نہ تو کوئی نئی شریعت آپ لائے۔ اور نہ بغیر واسطہ رسول اللہ ا کے آر آپ پ نے نبوت پائی۔ اور یہ دونوں خصوصیتیں ایسی نہیں ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں نبی نہ ہو۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بیٹی میں شریعت لانے کی خصوصیت نہ تھی۔ اور وہ نبی تھے۔ اور بالواسطہ نبی ہونے کی خصوصیت نبوت کے معنوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ اور نہ نقل بتاتی ہے کہ نبی رہی ہے جو براہ راست نبوت