انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 433

۴۳۳ :: جائیں۔یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو۔اس کا نام ہم بھی رکھتے ہیں\"۔مومنوں کے لئے مبشر الہام باقی رہ گئے ہیں گو شربت ختم ہوگئی ہے۔تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں۔مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں۔یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے\"۔\"نبوت اور رسالت کالفظ چو شد اتعالی ٰنے اپنی وحی میں میری نسبت صد ہا مرتبہ استعمال کیا ہے۔مگر اس لفظ سے صرف وہ مکالمات مخاطبت الہٰیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں۔اور غیب پر مشتمل ہیں‘‘۔’’اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعوی ٰکیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملتی ہے۔لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں"۔"میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ‘‘۔’’اور میری نبوت سے اللہ تعالیٰ کی مراد صرف کثرت مکالمات و مخاطبات ہے۔اور جو اس سے زیادہ سمجھے اس پر خداتعالی کی لعنت ہو"۔"جو شخص دعوائے نبوت کرے۔اور یہ اعتقاد نہ رکھے کہ وہ آنحضرت ﷺکی امت سے ہے، خدا کی لعنت اس پر"۔’’مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ہاں امتی اور نبی"۔"اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو! دشمن قرآن نہ بنو۔اور خاتم النبّین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو (جو قرآن کریم کو منسوخ کر دے جیسا کہ ماقبل سے ظاہر ہے)\"۔\" و نؤمن بانہ خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ الا الزی ربی من فیضہ و اظھرہ وعدہ خدا تعالیٰ اس سے مکالمہ مخاطبہ کرے گا۔اور غیب کی باتیں اس پر ظاہر کرے گا اس لئے باوجود امتی ہونے کے وہ نبی کہلائے گا‘‘۔یہ وہ نبوت نہیں جو مستقل نبوت کہلاتی ہے\"۔\ہاں امتی اورنبی دونوں لفظ اجتماعی طور پر اس پر صادق آسکتے ہیں"۔"خوب یاد رکھنا چاہئے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت ﷺکے بالکل مسدودہے۔‘‘ جس نبوت کا دعویٰ قرآن شریف کے روسے منع ہے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا\"۔\" میری نبوت سے کثرت مکالمه و مخاطبہ مراد ہے۔‘‘ ’’ منجاب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں\" ان سب عبارات پر غور کرو۔کیا ان کا یہی خلاصہ نہیں نکلتا کہ وحی شریعت بند ہو چکی ہے۔اب صرف مبشرات اور منذرات کا دروازہ کھلا ہے۔یہ دعوی ٰکرنا کہ کسی انسان کو آنحضرت ﷺ کے واسطہ کے بغیر نبوت ملی ناجائز ہے۔آپ کی نبوت امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانے کا نام ہے آپ ایسے نبی ہیں جو امتی بھی ہیں۔اب میری تمہید کو یاد کرو اور ان حوالہ جات کو دیکھو کہ کیا اس کے خلاف اس میں کوئی بات ہے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ ہوتا کہ حضرت صاحب ایسے نبی ہیں جو نئی شریعت لائے یاوحی شریعت اب تک جاری ہے۔یا یہ کہ آپ کی نبوت بلاواسطہ تھی یا یہ کہ آپ۔0