انوارالعلوم (جلد 2) — Page 431
ا۳ کیا ہے نقل کر چکا ہوں۔اور ان کے ساتھی اور وہ حوالہ جات جو ان کے بیان کی تائید میں مل سکتے تھے وہ بھی نقل کر چکا ہوں۔تو میں اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتاہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم سے یہ امر ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ سب حوالہ جات ہرگز ہرگز ہمارے دعوے کے خلاف نہیں۔ان سے حضرت مسیح موعود ؑ کی نبوت رد نہیں ہوتی بلکہ ثابت ہوتی ہے، اور آپ کا دعویٰ با طل نہیں ہوتا بلکہ قائم ہوتا ہے لیکن میں اس قدر بیان کر دینا اور ضروری خیال کرتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے تمہید فصل میں بیان کیا ہے۔میں بجائے فرداً فردا ًہر ایک حوالہ کا جواب دینے کے سب حوالہ جات کا اکٹھاجواب دینا چاہتا ہوں تاکہ ہماری جماعت کے لوگوں کو ایک ایسا اصل معلوم ہو جائے جس سے وہ ہر ایک اعتراض کا جواب آئنده خودہی دے لیا کریں۔اور اس کے لئے میں نے لغت عرب قرآن کریم محاوره انبیائے سابقین اور حضرت مسیح موعود کے بیان کے مطابق نبی کی ایک جامع مانع تعریف کی تھی جس تعریف کے ہوتے ہوئے نہ کوئی نبی نبیوں کی جماعت سے خارج ہوتا ہے اور نہ کوئی غیر نبیوں کی جماعت میں شامل ہو جا تا ہے پس ان حوالہ جات کے نقل کرنے کے بعد میں طالبان حق کو پھراسی تمہید کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ ان حوالوں سے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت ردّ نہیں بلکہ ثابت ہوتی ہے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ان حوالہ جات میں جہاں جہاں حضرت مسیح موعود نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کرنے سے انکار کیا ہے۔اس سے کوئی شخص دھوکا نہ کھائے کیونکہ حضرت مسیح موعودؑنے خودی ایسے تمام حوالوں کا جواب دے دیا ہے۔اور آپ کے اپنے جواب کے بعد کسی کاحق نہیں کہ اس انکار کے کوئی اور معنی کرے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں: \"جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پاکراس کےواسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کانبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔‘‘ (ایک غلطی کا از الہ ۶،۷، روحانی خزائن جلد ۸ ا صفحہ ۲۱۰ - ۲۱۱ ) اس عبارت نے سب جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے۔اور جہاں جہاں حضرت مسیح موعودؑ نے لکھا