انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 427

انوار العلوم جلد ۲ ۴۲۷ حقيقة النبوة ( حصہ اول) اقول - صاحب انصاف طلب کے بیان میں یعنی ان کے پہلے ہی قول شریف میں تناقض پایا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو وہ بہت ہی حق پسند بن کر نہایت مہربانی سے فرماتے ہیں کہ مسلمان کو کافر کہنا زیبا نہیں اور پھر دوسری طرف اسی منہ سے میری نسبت رائے ظاہر کرتے ہیں کہ گویا میری جماعت در حقیقت مجھے رسول اللہ جانتی ہے اور گویا میں نے در حقیقت نبوت کا دعوی کیا ہے اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں۔ تو پھر یہ دوسری رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوت کا مدعی ہوں۔ کا مدعی ہوں۔ اور اگر دوسری رائے صحیح صحیح ۔ ہے تو پھر ھروہ وہ پہلی پہلی رائے رائے غلط ما ہے جس میں ظاہر ظاہر کہ کیا گیا کہ میں مسلمان ہوں ہوں اور اور قرآن شریف کو مانتا ہوں۔ کیا ایسا ۳ ۳ بد بخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعوی کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان کچھ سکتا ہے ۔ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت وَالكِنْ رَسُول اللَّهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّن کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعوی نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں مگر میں اسکو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا احتمال ہے لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلشانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مأمور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے ۳۴ ۔ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤوس الاشهاد گواہی دیتا ہوں کہی ہے جو ہمارے نبی اله خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا - وَمَنْ قَالَ بَعْدَرَ سُولِنَا وَسَيِّدِنَا إِنِّي نَبِيُّ أَوْ رَسُولُ عَلَى وَجْهِ الْحَقِيقَةِ وَالْإِفْتِرَاءِ وَتَرَكَ الْقُرْآنَ وَأَحْكَامُ الشَّرِيعَةِ الْغَرَّاءِ فَهُوَ كَافِرُ كَذَّابٌ غرض ہمارا مذہب میں ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعوی کرے اور آنحضرت کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور ام ر اس پاک سرچشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براه راست نبی اللہ بنا چاہتا تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالبا ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عباد آئیں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔ پس بلا شبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ٣٥ ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں ت