انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 424

انوار العلوم جلد ۲ ۴۲۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفی اللہ پر در اشتهار ۱۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۲۳۰ - ۲۳۱ ) ہو گئی ۲۴ کل انسانوں کے کمالات بہ بیت مجموعی ہمارے رسول اللہ ا میں جمع ہیں اور اسی لئے آپ کل دنیا کے لئے مبعوث ہوئے ۔ اور رحمةً حمَةً لِلْعَلَمِينَ کہلاۓ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے۔ یہ ایک مسلم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت نائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب کل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت غائی رسول اللہ ا پر ختم ہوئی ۔ اور یہی ختم نبوت کے معنی ہیں۔ کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آکر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ صفحہ ۷ اسطر ۱۶۔ "اللہ تعالٰی نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں مجموعی طور پر وہ ہادی کامل پر ختم ہو چکے اب کلی طور پر ہمیشہ کے لئے مجددین کے ذریعہ سے دنیا پر اپنا پر تو ڈالتے رہیں گے 20 اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو قیامت تک رکھے گا " (دین الحق صفحه ۶۷ از تقریر نمبر صفحہ ۲۲ جو ۱۸۹۹ء میں دوبارہ شائع ہوئی ) الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ خَاتَمِ النَّبِيِّن اما بعد تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام و توضیح مرام و ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محد ثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محد ثیت نبوت ناقصہ ہے یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں۔ معنوں کے رو سے بیان کئے گئے ہیں ورنہ حاشاد کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہر گز دعوئی نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفی خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں کیونکہ کسی طرح مجھ کو مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے ۔ جس ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میں میری نیست میں جس کو اللہ جلشانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنی آنحضرت ا نے مکلم مراد لئے ہیں یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ