انوارالعلوم (جلد 2) — Page 25
انوار العلوم جلد ۲ ۲۵ منصب خلافت مخلوق میں سے کوئی اضطراب اور درد سے دعا کرے اور وہ قبول نہ ہو ۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے یہ معاملہ میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر شخص کے ساتھ ہے چنانچہ فرماتا ہے۔ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقره : ١٧ بر شَدُونَ (البقره: ۱۸۷) جب میرے بندے میری نسبت تجھ سے سوال کریں تو ان کو کہدے کہ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں اور اسے قبول کرتا ہوں۔ یہاں اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ فرمایا یہ نہیں کہا کہ : کہا کہ میں صرف مسلمان یا کسی خاص ملک اور قوم کے آدمی کی دعا سنتا ہوں۔ کوئی ہو ۔ کہیں کا ہو ۔ اور کہیں ہو۔ اس قبولیت دعا کی غرض کیا ہوتی ہے ؟ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِی مان لے اور مسلمان ہو جاوے اور مسلمان اور مومن ہو تو اس ایمان میں ترقی کرے ۔ کافر کی دعا میں اس لئے قبول کرتا ہوں کہ مجھ پر ایمان ہو اور وہ مؤمن بن جاوے اور مؤمن کی اس لئے کہ رشد اور یقین میں ترقی کرے۔ خدا تعالیٰ کی معرفت اور شناخت کا بہترین طریق دعا ہی ہے۔ اور مومن کی امیدیں اسی سے وسیع ہوتی ہیں۔ پس میں نے بھی بہت دعائیں کی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ قبول ہوں گی۔ پھر میں نے اس کے حضور دعا کی کہ میں ان لوگوں کے سامنے کیا کہوں تو آپ مجھے تعلیم کر اور آپ مجھے سمجھا۔ میں نے اس فتنہ کو دیکھا جو اس وقت پیدا ہوا ہے میں نے اپنے آپ کو اس قابل نہ پایا کہ اس کی توفیق اور تائید کے بغیر اس کو دور کر سکوں میرا سہارا اسی پر ہے اس لئے میں اس کے حضور جھکا اور درخواست کی کہ آپ ہی مجھے بتائیں ان لوگوں کو جو جمع ہوئے ہیں کیا کہوں اس نے میرے قلب کو اسی آیت کی طرف متوجہ کیا اور مجھ پر ان حقائق کو کھولا۔ جو اس میں ہیں۔ میں نے دیکھا کہ خلافت کے تمام فرائض اور کام اس آیت میں بیان کر دیئے گئے ہیں تب میں نے اس کو اس وقت تمہارے سامنے پڑھ دیا۔ لا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ مير الذهب بے لَا خِلَافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرَةِ و خلافت جائز ہی نہیں جب تک اس میں شوری نہ ہو ۔ اس اصول پر تم لوگوں کو یہاں بلوایا گیا ہے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس پر قائم ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اس پر قائم رہوں میں نے چاہا کہ مشورہ لوں مگر میں نہیں جانتا تھا کہ کیا مشورہ لوں۔ میرے دوستوں نے کہا کہ مشورہ ہونا چاہئے میں نے اس کی تصریح نہیں پوچھی۔ میں چونکہ مشورہ کو پسند کرتا ہوں اس لئے ان سے اتفاق کیا اور انہوں نے آپ کو بلا لیا مگر مجھے کل تک معلوم نہ تھا کہ میں کیا کہوں آخر جب میں نے