انوارالعلوم (جلد 2) — Page 420
انوار العلوم جلد ۲ ۴۲۰ حقيقة النبوة (حصہ اول) بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے۔ اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔ اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے۔ اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے۔ اس پر مہر لگ چکی ہے میں کہتا ہوں کہ نہ من كل الوجوہ باب نبوت مسدود یا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہرلگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔ مگر اس بات کو بحضورِ دل یا د رکھنا چاہئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا۔ نبوت تامہ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں۔ وہ صرف ایک جزئی " نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے۔ جو انسان کامل کے اقتداء سے ملتی ہے۔ جو مستجمع جمیع کمالات نبوت نامہ ہے۔ یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفی ال فَاعْلَمُ أَرْشَدَكَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّ النَّبِيَّ مُحَدَّثُ وَ الْمُحَدَّثُ نَبِيَّ بِاعْتِبَارِ حَصُول نَوْعٍ مِنْ أَنْوَاعِ النُّبُوَّةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ أَى لَمْ يَبْقَ مِنْ أَنْوَاعِ النُّبُوَّةِ إِلَّا نُوْعٌ وَاحِدٌ وَهِيَ الْمُبِشْرَاتُ بَلِ الْحَدِيثُ يَدُلُّ ل عَلَى أَنَّ النَّبُوَّةَ التَّامَةَ الْحَامِلَةَ لِوَحْيِ الشَّرِيعَةِ قَدِ انْقَطَعَتْ وَالِكِنَّ النَّبُوَّةَ الَّتِي لَيْسَ فِيْهَا إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ فَهِيَ بَاقِيَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ لَا انْقِطَاعَ لَهَا أَبَدًا ۔۔ حَامِلُ كَلَامِنَا أَنَّ أَبْوَابَ النُّبُوَّةِ الْجُزْئِيَّةِ مَفْتُوحَةً حَةً أَبَدًا وَلَيْسَ فِي هَذَا النَّوْعِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ وَالْمُنْذِرَاتُ مِنَ الْأُمُورِا 11 لِجَمِيعِ أوِ اللَّطَائِفِ القُرانِيَةِ وَالْعُلُومِ المَدَنِيَّةِ وَاَمَّا النُّبُوَّةُ الَّتِي تَامَّةً كَامِلَةً جَامِعَةٌ الكَمَالَاتِ الْوَحْيِ فَقَدْ مَنَّا بِانْقِطَاعِهَا " (روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱۰۷۰- توضیح مرام صفحه ۱۲ ۱۳۰ ) عربی حصہ کا ترجمہ یہ ہے: جان لے۔ اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے کہ نبی محدث ہوتا ہے اور محدث نبی ہوتا ہے اس اعتبار سے کہ اسے نبوت کی قسموں سے ایک قسم حاصل ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سوائے مبشرات کے نبوت سے کچھ باقی نہیں رہا۔ یعنی نبوت کے انواع میں سے صرف ایک نوع باقی رہ گئی ہے۔ اور وہ مبشرات ہیں ۔۔۔۔ بلکہ حدیث دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ نبوت کا نامہ جو وحی شریعت کی حامل ہوتی ہے۔ وہ منقطع ہو چکی ہے۔ لیکن وہ نبوت کہ جس میں سوائے مبشرات کے کچھ بھی نہیں۔ وہ قیامت کے دن تک باقی ہے۔ اور کبھی منقطع نہیں ہو گی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جز کی نبوت کے دروازے ہمیشہ کے لئے کھلے ہیں۔ اور اس نوع میں کچھ نہیں سوائے مبشرات اور