انوارالعلوم (جلد 2) — Page 410
انوار العلوم جلد ۲ ۴۱۰ حقيقة النبوة ( حصہ اول) که آر سکتا تھا ہے۔ حضرت نبی کریم ا کے طفیل سے ہے۔ پس چونکہ لوگوں میں اس بدظنی کے پھیلنے کا خطرہ تھایا یوں کہو کہ مخالف یہ خیال پھیلا رہے تھے کہ آپ کوئی جدید شریعت لائے ہیں یا یہ کہ آنحضرت ا کی اطاعت سے باہر ہو کر آپ نے دعوائے نبوت کیا ہے یا نبوت پائی ہے اس لئے ضرور تھا آپ بھی لوگوں کو سمجھانے کے لئے اپنی نبوت کی قسم بتلا دیتے اور اعلان کر دیتے کہ میں کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں اور چونکہ آنحضرت ا کے بعد کوئی شخص براہ راست نبی نہیں ہو تھا کیونکہ آپ خاتم النبین تھے اس لئے اب یہ بھی ضروری تھا کہ آپ اس بات کا کا بھی اعلان کرتے کہ میں پہلے انبیاء کے خلاف ایک نبی کی اتباع سے نبی ہوا ہوں اور مجھے جو کچھ ملا آنحضرت ﷺ کے فیض سے ملا ہے۔ اگر آپ یہ نہ فرماتے تو لوگوں کو دھوکا لگنے کا خطرہ تھا اور اگر وہ آپ کے طریق عمل سے یہ معلوم کر لیتے کہ آپ نئی شریعت نہیں لائے تب بھی آپ کے بتائے بغیر لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ آپ نے بلا واسطہ نبوت پائی ہے یا بالواسطہ اس لئے دور و نزدیک کے لوگوں کو واقف کرنے کے لئے آپ نے اعلان فرمادیا کہ میری نبوت تشریعی نبوت نہیں بلکہ میں قرآن کریم کا تابع ہوں اور یہ کہ مجھے بلا واسطہ نبوت نہیں ملی بلکہ آنحضرت اللہ کے واسطہ سے آپ کی اطاعت سے آپ میں فناء ہو کر آپ کی غلامی سے ملی ہے۔ اور اس مطلب کے سمجھانے کے لئے آپ نے فقروں کی بجائے چند اصطلاحات مقرر فرمائیں تاکہ لوگ ایک لفظ میں بات کو سمجھ جائیں کہ آپ کی اس سے فلاں قسم کی نبوت مراد ہے اور یہ ہمارے مسیح کی پہلے صحیح پر ایک فضیلت ہے کہ اس نے ایک فقرہ میں ایک بات کو ادا کیا جس کا دہرانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے مگر ہمارے مسیح نے اپنی جماعت کی آسانی کے لئے ایک ایک لفظ میں فقرات کا مضمون ادا کر کے خاص اصطلاحات قرار دیں تا جماعت کو اپنا مفہوم سمجھانے میں آسانی ہو ورنہ ان اصطلاحات کے بنانے سے یہ بات بتانا ہرگز مقصود نہیں تھا کہ آپ نبی نہیں بلکہ صرف اس قدر بتانا مد نظر تھا کہ آپ شریعت جدیدہ نہیں لائے اور یہ الائے اور یہ کہ آپ نے آنحضرت ا کی اتباع سے نبور نبوت پائی ہے ورنہ آپ نبی ہیں اور خدا نے اور اس کے رسول نے انہی الفاظ میں آپ کو نبی کہا جن میں قرآن کریم اور احادیث میں پچھلے نبیوں کو نبی کہا گیا ہے افسوس ہے کہ جو اصطلاحات غیر احمدیوں کو سمجھانے کے لئے مسیح موعود نے بنائی تھیں ان کے معانی اور انکی مراد کو نہ سمجھ کر ہماری ہی جماعت کے بعض آدمی ابتلاء میں پڑ گئے۔ ورنہ ان اصطلاحات میں جن چیزوں کی نفی حضرت مسیح موعود نے اپنے نفس